آخری چند دن دسمبر کے۔۔۔
دسمبر کی گزرگاہ
آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانوں سے
کیسے کیسے گمان گزرتے ہیں
رفتگاں کے گزرتے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
یہ بھی پڑھیں: جب دلیپ کمار پر پاکستان کے لئے جاسوسی کا الزام لگا اور نشانِ امتیاز ملنے سے ہنگامہ برپا ہوا
یا دوں کی لکیر
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بد نما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں ان کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھتے نشانوں پر
چاک سے، لائنیں لگاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی رینکنگ جاری کردی، ابرار احمد 12درجے بہتری کے بعد 4نمبر پر آگئے
ڈائری کا سوال
پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری اک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہوں گے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہوں گے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفاں سمٹ گئے ہوں گے
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ سنوار کی موت والا صوفہ میری ماں کا دیا ہوا ہے: وہ گھر جہاں اسرائیل نے حماس کے سربراہ کو ہلاک کیا
ایک خیال
ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہوں گے
ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہو گا
اور کچھ بے نشان صفحوں سے
نام میرا بھی کٹ گیا ہو گا
کلام:
امجد اسلام امجد








