سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے سزا کے خلاف اپیل دائر کردی
فیض حمید کی اپیل
راولپنڈی (ویب ڈیسک) سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی یہودیوں کی اکثریت کملا ہیرس کی حمایتی نکلی
وکیل کی تصدیق
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیض حمید کے وکیل نے فوجی عدالت سے سنائی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر 10 ملین ڈالرز انعام کا اعلان کر دیا
اپیل کی تفصیلات
فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے مزید تفصیلات دیے بغیر بتایا کہ ’ہم نے فوجی عدالت کی طرف سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی ہے، اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر عبد العاطی سے ٹیلیفونک رابطہ، کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا
قانونی نکات
رپورٹ کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 133B کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے فیض حمید کے پاس 40 دن کا وقت تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی صدر شی جن پنگ کی ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد
آگے کا عمل
اپیل کا جائزہ سب سے پہلے کورٹ آف اپیلز کے ذریعے لیا جاتا ہے جس کی سربراہی ایک میجر جنرل یا اس سے اوپر کا افسر کرتا ہے جو آرمی چیف کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے، اس کے بعد آرمی چیف کے پاس سزا کی توثیق، اس پر نظر ثانی یا اسے منسوخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثنا یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت
سزا کی تفصیلات
11 دسمبر کو آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ ’سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنادی گئی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ملزم پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، ریاست کے تحفظ اور مفاد کے لیے نقصان دہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور لوگوں کو غلط طریقے سے نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی احتساب بیورو نے سہ ماہی وصولیوں کی تفصیلات جاری کر دیں
عدالتی کارروائی
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ طویل قانونی کارروائی کے بعد، ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار پایا گیا، عدالت نے 14 سال قید کی سزا سنائی جو 11 دسمبر 2025 کو سنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: میرا اصولی موقف ہے میں کوئی کیس ٹرانسفر نہیں کروں گا، جسٹس محسن اختر کیانی کے ایک سے دوسرے بنچ میں کیسز ٹرانسفر کرنے پر ریمارکس
قانونی حقوق
ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی دفعات کی تعمیل کی، ملزم کو اپنی پسند کی دفاعی ٹیم کے حقوق سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے تھے، مجرم کو متعلقہ فورم پر اپیل کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی آئینی ترمیم کے بعد پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری میں نمائندگی کا طریقہ کار بھی تبدیل
سیاسی معاملات
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام کو ہوا دینے اور بعض دیگر معاملات میں مجرم کے ملوث ہونے سے الگ سے نمٹا جا رہا ہے، ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے پہلگام واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اور حل پیش کر دیا
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا آغاز
بیان میں کہا گیا تھا کہ 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے فیض حمید کو 14 سال قیدبالمشقت سنائی۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم پریکٹس سیشن کے دوران انجری کا شکار
طویل کارروائی
ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع ہوا جو 15 ماہ تک جاری رہا۔
اختتام
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ طویل اور مفصل قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنادی۔








