رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر کراچی میں وکلا نے ہڑتال کا اعلان کر دیا
کراچی میں وکلا کی ہڑتال
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر کراچی میں وکلا نے بدھ کے روز سٹی کورٹ میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے پارٹی کو قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کردی
صدر کراچی بار کا اعلان
صدر کراچی بار عامر وڑائچ نے کہا ہے کہ بدھ کے روز کسی بھی پولیس اہلکار کو سٹی کورٹ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وکلا کی درخواست پر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: منہ زور پانی میں ڈوبتی انسانیت اور اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال ریاست
ہنگامی اجلاس کی طلبی
وکلا نے کل صبح 11 بجے سٹی کورٹ میں ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ صدر کراچی بار کے مطابق اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے جھوٹ اور عوام کو گمراہ کرنے پر یوٹیوبر آفتاب اقبال کو قانونی نوٹس بھجوا دیا
وکلا کے خلاف مقدمے کی خبر
اس سے قبل عامر وڑائچ کا کہنا تھا کہ آج صبح معلوم ہوا کہ وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ وکلا کی جانب سے بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کرم میں بےگناہوں کے قتل پر علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کیوں خاموش ہیں؟شازیہ مری
احتجاج کا اثر
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وکلا کی جانب سے سٹی کورٹ کے باہر ایم اے جناح روڈ پر احتجاج کیا گیا، جس کے باعث ایم اے جناح روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے نامور آرٹسٹ سعید کامرانی کے فن پاروں کی نمائش
تشدد کا مقدمہ
واضح رہے کہ گزشتہ روز سٹی کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد 15 سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کی تفصیلات
یہ مقدمہ رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے تھانہ سٹی کورٹ میں درج کروایا، جس میں تشدد، مارپیٹ، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں ریاض علی سولنگی، فتح چانڈیو سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق تشدد کے دوران رجب بٹ کے تین لاکھ روپے بھی غائب ہو گئے۔








