رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر کراچی میں وکلا نے ہڑتال کا اعلان کر دیا
کراچی میں وکلا کی ہڑتال
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر کراچی میں وکلا نے بدھ کے روز سٹی کورٹ میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری نثار کی عمران خان سے ملاقات کو روکنے کے لیے شہبازشریف نے کیا کردار ادا کیا؟ منیب فاروق کا بڑا دعویٰ
صدر کراچی بار کا اعلان
صدر کراچی بار عامر وڑائچ نے کہا ہے کہ بدھ کے روز کسی بھی پولیس اہلکار کو سٹی کورٹ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وکلا کی درخواست پر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 22 سالوں میں 11 شوہروں کا قتل، ایرانی خاتون کے حیران کن کیس کی کہانی سامنے آگئی
ہنگامی اجلاس کی طلبی
وکلا نے کل صبح 11 بجے سٹی کورٹ میں ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ صدر کراچی بار کے مطابق اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 1. ڈاکٹرز نے مل کر بچے کی پیدائش کرائی، اداکارہ مریم نفیس
وکلا کے خلاف مقدمے کی خبر
اس سے قبل عامر وڑائچ کا کہنا تھا کہ آج صبح معلوم ہوا کہ وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ وکلا کی جانب سے بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوری کے آخر تک شدید سرد موسم کی پیشگوئی
احتجاج کا اثر
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وکلا کی جانب سے سٹی کورٹ کے باہر ایم اے جناح روڈ پر احتجاج کیا گیا، جس کے باعث ایم اے جناح روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: دفاعی تجزیہ کاروں کی ٹی وی پروگرامز میں شرکت کیلئے آئی ایس پی آر سے اجازت کا نوٹی فکیشن معطل
تشدد کا مقدمہ
واضح رہے کہ گزشتہ روز سٹی کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد 15 سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کی تفصیلات
یہ مقدمہ رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے تھانہ سٹی کورٹ میں درج کروایا، جس میں تشدد، مارپیٹ، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں ریاض علی سولنگی، فتح چانڈیو سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق تشدد کے دوران رجب بٹ کے تین لاکھ روپے بھی غائب ہو گئے۔








