شدید سردی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور مسلسل پابندیاں، غزہ میں انسانی بحران شدید ہونے لگا۔
غزہ میں انسانی بحران کی شدت
غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) شدید سردی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور مسلسل پابندیاں، غزہ میں انسانی بحران کو شدید بنا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 28 مئی کو ایڈوانی اور واجپائی پاکستان کو ملیا میٹ کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے لیکن جیسے ہی دھماکے ہوئے تو۔۔۔ تجزیہ کار کا ایسا دعویٰ کہ ہنسی نہ رکے
اسرائیلی پابندیاں اور امدادی اداروں کی صورتحال
تفصیلات کے مطابق، اسرائیل نے غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ یہ حالات ہزاروں زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سب جیل پنڈی بھٹیاں کا افتتاح
خان یونس کی صورتحال
خان یونس کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں امدادی اداروں کا کوئی متبادل موجود نہیں، آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں، طبی مراکز محدود ہیں، اور پابندیاں زخمیوں اور عام مریضوں کے لیے علاج کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں پھنسے پاکستانی خصوصی پرواز میں اشک آباد سے اسلام آباد پہنچ گئے
امدادی اداروں کی موجودگی اور اس کے اثرات
’’جنگ‘‘ کے مطابق، غزہ کے متاثرین نے کہا ہے کہ امدادی اداروں کی موجودگی کے باوجود حالات کافی خراب ہیں؛ اگر یہ ادارے یہاں سے چلے گئے تو بچوں کی اموات میں اضافہ ہوگا اور خاندان تباہ ہو جائیں گے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، اسرائیل 37 بین الاقوامی این جی اوز کے لائسنس منسوخ کرنے جا رہا ہے، جن میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز، نارویجین ریفیوجی کونسل، کیئر انٹرنیشنل، اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین انڈور روئنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کی شاندار پرفارمنس، کتنے تمغے جیتے؟
بین الاقوامی ردعمل
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی کے تحت اداروں کو اپنے عملے اور سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ جبکہ کینیڈا، فرانس، جاپان اور برطانیہ سمیت 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں بین الاقوامی این جی اوز کو بلا رکاوٹ کام کرنے دے کیونکہ ان کے بغیر فوری انسانی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد الحرام میں سیکیورٹی اہلکار خودکشی کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو بچاتے ہوئے زخمی ہو گیا
اقوام متحدہ کا موقف
اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزین کے ادارے (انروا) نے بھی اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں امدادی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرے گا۔ انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے اسے انسانی اصولوں کے لیے خطرناک مثال قرار دیا۔
غزہ کی آبادی اور حالات
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، غزہ کی بڑی آبادی مکمل طور پر امداد پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ شدید سردی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر، اور مسلسل پابندیاں حالات کو مزید خراب کر رہی ہیں۔








