کراچی کے مین ہول سے ملنے والی 4 لاشوں کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑا انکشاف
کراچی میں خوفناک واقعہ
کراچی کے علاقے مائی کولاچی روڈ کے قریب ایک مین ہول سے برآمد ہونے والی 4 لاشوں نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں سابقہ دشمنی پر جرگے کے دوران فائرنگ سے 2 سگے بھائی جاں بحق
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹس
سول اسپتال میں ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے واقعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جب کہ پولیس واقعے کو مختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہوئے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا لاہور میں شیر حملے کے زخمیوں کو فی کس پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان
لاشوں کی حالت
پولیس سرجن کے مطابق مائی کولاچی روڈ پھاٹک کے قریب مین ہول سے ملنے والی چاروں لاشیں کئی روز پرانی ہیں اور ان پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ایک لڑکے کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال ہے، جس کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ دوسرے لڑکے کی عمر تقریباً 10 سال بتائی گئی ہے، جس کی لاش گلا کٹی ہوئی حالت میں ملی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مین ہول سے 4 لاشیں ملنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا
تشدد کے آثار
اسی طرح ایک لڑکی، جس کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان ہے، کے سر، چہرے اور گردن پر بھی تشدد کے آثار پائے گئے ہیں، جب کہ چوتھی لاش تقریباً 40 سالہ خاتون کی ہے، جس کے سر پر شدید تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ پولیس کے مطابق کیمیائی تجزیے کے لیے لاشوں سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی وکیل نے سماعت کے دوران انکشاف کیا 9 مئی کیس کا مرکزی گواہ پولیس اہلکار 9 مئی کو چھٹی پر تھا : اسد علی طور کا وی لاگ میں دعویٰ
تحقیقات کا عمل
یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس حکام نے بتایا تھا کہ کراچی کے علاقے مائی کولاچی کے قریب ایک مین ہول سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ابتدائی طور پر لاشوں میں 2 مرد اور 2 خواتین شامل بتائی گئیں، جن کے بارے میں اندازہ تھا کہ وہ 10 سے 15 روز پرانی ہیں۔ پولیس کے مطابق لاشیں کافی حد تک مسخ ہو چکی تھیں، جس سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ 15 سے 20 روز پرانی بھی ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: کرایہ نہ ملنے پر سکول کو تالا، طالبات اور اساتذہ کو نکال دیا گیا
پولیس کی کارروائی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ کیماڑی پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
آگے کے اقدامات
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیے کی حتمی رپورٹس موصول ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے، جس کے بعد ذمہ داروں کے تعین اور گرفتاری کے لیے کارروائی کی جائے گی۔








