وینزویلا کے صدر کو امریکہ نے گرفتار کر لیا، لیکن تیل کے کنوؤں کا کیا بنا؟
وینزویلا کی تیل پیداوار کی جاری سرگرمیاں
کاراکاس (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کی جانب سے کی گئی کارروائی کے باوجود وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کی تیل پیداوار اور ریفائننگ کی سرگرمیاں ہفتے کے روز معمول کے مطابق جاری رہیں اور تیل کی تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ دو باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حملے کے باوجود وینزویلا کے تیل کے نظام کو محفوظ رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 80 سالہ مصری شخص نے 79 سالہ خاتون سے محبت کے بعد شادی کر لی
امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا کئی ماہ سے مادورو پر منشیات سمگلنگ اور اقتدار میں ناجائز ہونے کے الزامات کے تحت دباؤ ڈال رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق دارالحکومت کاراکاس کے قریب واقع لاگوایرا بندرگاہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم یہ بندرگاہ وینزویلا کی تیل برآمدات کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی دارالحکومت میں یکم اکتوبر کے بعد ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پر مقدمات اور گرفتاریوں کا فیصلہ
پابندیاں اور تیل کی برآمدات میں کمی
امریکی صدر نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ وینزویلا آنے اور جانے والے تیل کے ٹینکروں پر پابندی عائد کی جائے گی، جس کے بعد امریکا نے وینزویلا کے تیل کی دو کھیپیں بھی ضبط کر لی تھیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اوپیک رکن ملک وینزویلا کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اور گزشتہ ماہ برآمدات تقریباً آدھی رہ گئیں، جو نومبر میں روزانہ 9 لاکھ 50 ہزار بیرل کے قریب تھیں۔ یہ اعداد و شمار مانیٹرنگ ڈیٹا اور اندرونی دستاویزات سے سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی کوئی درخواست نہیں کی، ایران نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی
پی ڈی وی ایس اے کا ردعمل
امریکی پابندیوں کے بعد متعدد جہاز مالکان نے وینزویلا کے پانیوں سے رخ موڑ لیا، جس کے باعث پی ڈی وی ایس اے کے خام تیل اور ایندھن کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ صورتحال کے پیش نظر کمپنی کو بندرگاہوں پر ترسیل کی رفتار کم کرنا پڑی اور تیل کو ٹینکروں میں ذخیرہ کرنا پڑ رہا ہے، تاکہ پیداوار یا ریفائننگ میں کٹوتی سے بچا جا سکے۔
سائبر حملے کے اثرات
ادھر پی ڈی وی ایس اے کا انتظامی نظام بھی تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔ دسمبر میں ہونے والے ایک سائبر حملے کے بعد کمپنی کو اپنے مرکزی نظام سے آئل ٹرمینلز، تیل کے کنوؤں اور ریفائنریوں کو الگ کرنا پڑا تھا، جس کے باعث ادارہ اب بھی تحریری ریکارڈ کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مجبور ہے۔








