امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے مودی سرکار کے اقلیتوں کے ساتھ تعصب، عدم برداشت اور تنگ نظری کو بے نقاب کر دیا
مودی حکومت کی اقلیتوں کے ساتھ تعصب کا انکشاف
نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے مودی سرکار کے اقلیتوں کے خلاف تعصب، عدم برداشت اور تنگ نظری کو بے نقاب کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق انٹرنیشنل امپائر خضر حیات علالت کے باعث انتقال کر گئے
تشدد کا بڑھتا ہوا سلسلہ
تفصیلات کے مطابق "وال اسٹریٹ جرنل" میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 کے بعد سے جب سے نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے ہیں، ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مسلمانوں جو بھارتی آبادی کا 14 فیصد ہیں، انتہاپسندوں کے سب سے زیادہ وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ مسلمانوں کو رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹنگ میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اکثر انہیں ووٹ ڈالنے اور ہندو اکثریتی علاقوں میں کاروبار کرنے سے روکا جاتا ہے۔ انہیں مسلمانوں کی اپنی آبادیوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانے والی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی
عیسائیوں پر حملے
عیسائی جو بھارت کی آبادی کا محض 2.3 فیصد ہیں اور جن میں سے بہت سے معاشرتی طور پر غریب ترین طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بھی بڑے پیمانے پر نفرت اور انتہاپسندوں کی غنڈہ گردی کا شکار ہیں۔ "جیو نیوز" کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ہندو بھارت کی آبادی کا 80 فیصد ہیں لیکن اس کے باوجود انتہاپسند ہندو عیسائیت کے تصوراتی خطرات کے سحر میں مبتلا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا سینئر صحافی مظہر اقبال کے انتقال پر اظہار افسوس
کرسمس پر تشدد اور حکومت کی خاموشی
اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں کرسمس کے دن سکول کھلے رکھنے کا حکم دیا گیا۔ کرسمس تقریبات کے دوران انتہاپسند ہندو گرجا گھروں کے باہر جمع ہوئے اور عیسائی مشنریوں کے خلاف نعرے لگائے اور بلند آواز میں ہندو مذہب کی دعائیں بھی پڑھیں۔ اس قسم کے واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار تقریباً ہر بھارتی ریاست میں پیش آئے۔
یہ بھی پڑھیں: شارجہ کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت غلام قادر راجہ کے اعزاز میں عشائیہ
سیکولرازم کی حالت
بھارت میں سیکولرازم عملی طور پر کبھی بہترین حالت میں نہیں رہا بلکہ یہ ہمیشہ سطحی رہا ہے، جسے برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنے والے مغربی تعلیم یافتہ طبقے نے فطری طور پر فرقہ پرست آبادی پر تھوپا تھا۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیکولر ازم کا تمام تر دکھاوا بھی ختم ہو چکا ہے۔
حکومت کی خاموش منظوری
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے کرسمس میں گرجا گھروں پر حملوں کی مذمت تک نہیں کی، جس سے انتہاپند ہندو اقدامات کے لیے خاموش منظوری کا اشارہ ملتا ہے۔ 2025 کی اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے سفارش کی کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارت کو خاص تشویش والا ملک قرار دے، کیونکہ وہاں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کو بغیر کسی روک ٹوک اور سزا کے ہونے دیا جا رہا ہے۔








