کیا واقعی وینزویلا نے امریکہ کا تیل چرایا؟
ٹرمپ کا دعویٰ اور تاریخی حقائق
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس کہ وینزویلا نے “امریکا کا تیل چرا لیا”، تاریخی حقائق ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے بزرگ پاکستان آئے تو نا جانے کیوں انھوں نے اس علاقے کو مستقل آباد کاری اور قیام کے لیے منتخب کیا جہاں پانی کے لیے کئی کئی میل پیدل چلنا پڑتا
وینزویلا میں تیل کی دریافت
سی این این کے مطابق وینزویلا میں تیل کی باقاعدہ دریافت 1922 میں ہوئی، جب رائل ڈچ شیل کی ذیلی کمپنی کے کنویں سے دنیا کا اُس وقت کا سب سے بڑا آئل گیشر پھوٹا۔ اس دریافت کے بعد وینزویلا بتدریج ایک خودمختار تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔ ابتدا میں غیر ملکی کمپنیاں، جن میں امریکی اور یورپی کمپنیاں شامل تھیں، وینزویلا میں کاروبار کرتی رہیں اور منافع کماتی رہیں، لیکن تیل کبھی بھی قانونی طور پر امریکا کی ملکیت نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سے اب مذاکرات کے امکانات نہیں، رانا ثنا اللہ
قانون سازی اور قومی سرمائے کی تشکیل
سنہ 1943 میں وینزویلا نے قانون سازی کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں کو اپنے منافع کا نصف حکومت کو دینے کا پابند کیا۔ بعد ازاں 1976 میں وینزویلا نے اپنے تیل کے شعبے کو مکمل طور پر قومی تحویل میں لے کر سرکاری کمپنی PDVSA قائم کی، جس کے بدلے امریکی کمپنیوں کو معاوضہ بھی ادا کیا گیا۔ اس وقت امریکا نے اس اقدام پر کوئی سخت ردعمل نہیں دیا کیونکہ وینزویلا اس کا اہم تیل شراکت دار تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس کل دوبارہ شروع ہوگا
حکومتی کنٹرول میں سختی
سنہ 1999 کے بعد صدر ہیوگو شاویز اور پھر نکولس مادورو کے ادوار میں تیل کے شعبے پر ریاستی کنٹرول مزید سخت ہوا، غیر ملکی کمپنیوں کے اثاثے ضبط کیے گئے اور PDVSA کو سیاسی و عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں تیل کا انفراسٹرکچر تباہ ہوا اور پیداوار شدید کم ہوگئی۔ امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں نے بھی اس زوال میں کردار ادا کیا۔
آخری تجزیہ
ماہرین کے مطابق وینزویلا نے کبھی امریکا کا تیل “نہیں چرایا”، بلکہ اس نے اپنے قدرتی وسائل پر ریاستی حقِ ملکیت استعمال کیا، جیسا کہ کئی دیگر ممالک کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا بیان تاریخی اور قانونی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ وینزویلا کا تیل ہمیشہ وینزویلا کی ریاست کی ملکیت رہا ہے نہ کہ امریکا کی۔








