مسلسل ایمانداری سے ہی ملک میں چیزوں کو درست سمت لے جایا جا سکتا ہے، اس کیلیے جبر مسلسل کی ضرورت، بہادر دل اور تازہ دماغ چاہیے
مصنف اور قسط کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 401
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے سموگ کے بادل نہ چھٹے، آلودہ ترین شہروں میں پہلا نمبر برقرار
تربیتی پروگرام کا آغاز
اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے، میں نے دو ماہرین، سیکرٹری یونین کونسل ملک مشتاق حسین اور چوہدری محمد فاروق کو سرائے عالم گیر بلا کر پوری ڈویثرن کی ہر تحصیل پر تربیتی پروگرام ترتیب دیا۔ اس کا افتتاح کمشنر بہاول پور محمد خان کھچی نے بہاول پور میں کیا۔ اس کے نتیجے میں دو اہم فوائد حاصل ہوئے: ایک تو تمام مقامات پر حاضری مکمل رہی اور دوسرا، تربیت میں شریک افراد کو یہ احساس ہوا کہ غیر حاضری کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہ دونوں حضرات دو ہفتے ہمارے مہمان رہے اور میرے ڈویثرن کے سیکرٹری صاحبان نے اس تربیت کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کانگریس کے بعد عالمی جریدہ فوربز بھی مریم نواز کی کارکردگی کا معترف ہے: عظمی بخاری
تربیت کے فوائد
اس تربیت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مقامی سیکرٹری اپنے بنیادی فرائض، ذمہ داریوں، اور ریکارڈ کیپنگ سے آگاہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کے لیے اپوزیشن کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری
پیدائش اور اموات کا اندراج
بہاول پور میں پیدائش اور اموات کے اندراج کی شرح بہت کم تھی۔ اسے بہتر بنانے کے لیے میں نے ایک منصوبہ بنایا، جس کے تحت 5 سال کی عمر تک کے بچوں کے والدین ایک ماہ کی رعایتی مدت میں تحریری درخواست دے کر اپنے بچوں کا نام بلا معاوضہ درج کرا سکتے تھے۔ اس پروگرام کا مرکز لڑکیوں کے اندراج پر تھا اور الحمدللہ اس کا بڑا مثبت نتیجہ آیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں فوڈ سیکٹر کے لیے نئے قوانین اور بھاری جرمانوں کا اعلان، سگریٹ نوشی پر 4 لاکھ جرمانہ ہوگا
افتتاح اور توسیع
اس پروگرام کا افتتاح بھی کمشنر بہاول پور محمد خان کھچی نے کیا۔ بعد میں ڈی جی لوکل گورنمنٹ ندیم اسلم نے اسی پروگرام کو بنیاد بنا کر پنجاب بھر میں ایک ایسا ہی پروگرام شروع کیا، جس کا افتتاح بھی بہاول پور ڈویثرن سے ہوا۔ ان تین پروگرامز کے ذریعے اللہ نے اعلیٰ حکام کی نظر میں میری عزت کو بڑھا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف 13 سے 15 فروری کو جرمنی کا دورہ کریں گے
میری یقین دہانی
“بیشک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت۔”
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں خسرہ کی وباء سنگین صورتحال اختیار کر گئی، 3 ہفتوں میں 98 بچوں کا انتقال
بہتری کی شروعات
ایک دن میں اور نواز کہیں جا رہے تھے، تو نواز نے بتایا؛ “سر! میرا ایک عزیز یونین کونسل سے جنم پرچی لینے گیا۔ اس نے کہا کہ، ‘چاچا نواز! یونین کونسل والوں کا رویہ بہتر ہو گیا ہے۔ مجھے پرچی سرکاری فیس کے عوض ملی، جو پہلے کوئی 500 روپے میں دیتا تھا اور کوئی 200 میں۔” نواز نے کہا؛ “سر! سرپرائز دوروں کا بڑا اثر ہوا ہے۔” یہ اچھی شروعات تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے ڈیجیٹل ٹریفک چالان ’’ون ایپ‘‘ کا افتتاح کر دیا
مستقبل کا لائحہ عمل
میں نے یہ مانا کہ مسلسل ایمانداری سے نظر رکھ کر ہی اس ملک میں چیزوں کو درست سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ میں اپنی ماہانہ میٹنگز کے منٹس اور دوروں کی رپورٹ باقاعدگی سے ڈائریکٹر جنرل دفتر بھیجتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت پاکستان کو کمزور نہ جانے، بیٹھ کر بات کرلے تو ان کیلئے بہتر ہوگا، اعزاز چودھری
تعریف اور حوصلہ افزائی
ڈائریکٹر جنرل شہریار سلطان میٹنگز کے دوران میری کارکردگی کی تعریف کرتے ہیں۔ ان کے پی اے طارق اور سٹینو عبدالرحمان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں؛ “سر! آپ کی رپورٹیں پڑھ کر پرانا دور یاد آتا ہے۔” ایسی تعریفیں کسی بھی افسر کے لیے باعث مسرت ہوتی ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے۔ (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








