مسلسل ایمانداری سے ہی ملک میں چیزوں کو درست سمت لے جایا جا سکتا ہے، اس کیلیے جبر مسلسل کی ضرورت، بہادر دل اور تازہ دماغ چاہیے
مصنف اور قسط کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 401
یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن میں بھارت کی شدید لابنگ کے باوجود اس بار پاکستان کو واضح سفارتی سبقت حاصل ہوئی، معروف برطانوی اخبار کی رپورٹ
تربیتی پروگرام کا آغاز
اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے، میں نے دو ماہرین، سیکرٹری یونین کونسل ملک مشتاق حسین اور چوہدری محمد فاروق کو سرائے عالم گیر بلا کر پوری ڈویثرن کی ہر تحصیل پر تربیتی پروگرام ترتیب دیا۔ اس کا افتتاح کمشنر بہاول پور محمد خان کھچی نے بہاول پور میں کیا۔ اس کے نتیجے میں دو اہم فوائد حاصل ہوئے: ایک تو تمام مقامات پر حاضری مکمل رہی اور دوسرا، تربیت میں شریک افراد کو یہ احساس ہوا کہ غیر حاضری کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہ دونوں حضرات دو ہفتے ہمارے مہمان رہے اور میرے ڈویثرن کے سیکرٹری صاحبان نے اس تربیت کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان میں 2 سالہ بچی مین ہول میں گر کر جاں بحق، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس، کمشنر بہاولپور سے فوری رپورٹ طلب
تربیت کے فوائد
اس تربیت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مقامی سیکرٹری اپنے بنیادی فرائض، ذمہ داریوں، اور ریکارڈ کیپنگ سے آگاہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی بیٹی بچے کی ماں بن گئی
پیدائش اور اموات کا اندراج
بہاول پور میں پیدائش اور اموات کے اندراج کی شرح بہت کم تھی۔ اسے بہتر بنانے کے لیے میں نے ایک منصوبہ بنایا، جس کے تحت 5 سال کی عمر تک کے بچوں کے والدین ایک ماہ کی رعایتی مدت میں تحریری درخواست دے کر اپنے بچوں کا نام بلا معاوضہ درج کرا سکتے تھے۔ اس پروگرام کا مرکز لڑکیوں کے اندراج پر تھا اور الحمدللہ اس کا بڑا مثبت نتیجہ آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا محفوظ ہوا نہ مضبوط، کاملا ہیرس کی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت
افتتاح اور توسیع
اس پروگرام کا افتتاح بھی کمشنر بہاول پور محمد خان کھچی نے کیا۔ بعد میں ڈی جی لوکل گورنمنٹ ندیم اسلم نے اسی پروگرام کو بنیاد بنا کر پنجاب بھر میں ایک ایسا ہی پروگرام شروع کیا، جس کا افتتاح بھی بہاول پور ڈویثرن سے ہوا۔ ان تین پروگرامز کے ذریعے اللہ نے اعلیٰ حکام کی نظر میں میری عزت کو بڑھا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے بروقت بندباندھ کر تحصیل فیروزوالہ اور شیخوپورہ میں سینکڑوں جانیں بچا لیں
میری یقین دہانی
“بیشک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت۔”
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ آج کھیلا جائے گا
بہتری کی شروعات
ایک دن میں اور نواز کہیں جا رہے تھے، تو نواز نے بتایا؛ “سر! میرا ایک عزیز یونین کونسل سے جنم پرچی لینے گیا۔ اس نے کہا کہ، ‘چاچا نواز! یونین کونسل والوں کا رویہ بہتر ہو گیا ہے۔ مجھے پرچی سرکاری فیس کے عوض ملی، جو پہلے کوئی 500 روپے میں دیتا تھا اور کوئی 200 میں۔” نواز نے کہا؛ “سر! سرپرائز دوروں کا بڑا اثر ہوا ہے۔” یہ اچھی شروعات تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی رافیل طیاروں کی تباہی پر بالآخر فرانسیسی فوج کا ردعمل بھی آگیا
مستقبل کا لائحہ عمل
میں نے یہ مانا کہ مسلسل ایمانداری سے نظر رکھ کر ہی اس ملک میں چیزوں کو درست سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ میں اپنی ماہانہ میٹنگز کے منٹس اور دوروں کی رپورٹ باقاعدگی سے ڈائریکٹر جنرل دفتر بھیجتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پاک بھارت جنگ شروع ہو گئی تو وہ کسی کے قابو میں نہیں رہے گی: امریکی کانگریس مین کیتھ سیلف
تعریف اور حوصلہ افزائی
ڈائریکٹر جنرل شہریار سلطان میٹنگز کے دوران میری کارکردگی کی تعریف کرتے ہیں۔ ان کے پی اے طارق اور سٹینو عبدالرحمان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں؛ “سر! آپ کی رپورٹیں پڑھ کر پرانا دور یاد آتا ہے۔” ایسی تعریفیں کسی بھی افسر کے لیے باعث مسرت ہوتی ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے۔ (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








