ایران میں 1979 جیسا انقلاب نہیں آسکتا، جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر کی سی این این سے گفتگو

ایران میں جاری احتجاج اور اسلامی جمہوریہ کا مستقبل

تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں جاری ملک گیر احتجاج کے تناظر میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آیا یہ مظاہرے اسلامی جمہوریہ کے خاتمے پر منتج ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ تاہم معروف تجزیہ کار اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ولی نصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا اقتدار ختم بھی ہوتا ہے تو وہ 1979ء کے انقلاب جیسا منظر پیش نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کے باعث میٹرک کے سالانہ امتحانات کے بارے میں اہم فیصلہ

ولی نصر کا تجزیہ

سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ولی نصر کا کہنا تھا کہ بہت سے ایرانی ایک بنیادی غلطی کر رہے ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ کے ممکنہ خاتمے کو 1979ء کے انقلاب کے سانچے میں دیکھ رہے ہیں، حالانکہ آج کا ایران اس دور کے ایران سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے بقول، دونوں ادوار کا تقابل کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی پلیئرز کی نئی رینکنگ جاری

حکومت کی نوعیت

ولی نصر کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایک فردِ واحد کی حکومت نہیں، جیسا کہ شاہی نظام تھا جسے انقلاب نے ختم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ خامنہ ای حتمی اختیار رکھتے ہیں، لیکن نظام کے اندر طاقت کے کئی مراکز موجود ہیں۔ مختلف سیاسی دھڑے، ادارے اور مفادات ہیں، اور خامنہ ای ان سب کے درمیان توازن اور اتفاقِ رائے کے ذریعے حکومت کرتے ہیں۔ تمام دھڑے بالآخر انہی کے ذریعے گزرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بجٹ عوامی ہوگا یا آئی ایم ایف کا؟

ماضی کی مثال

انہوں نے یاد دلایا کہ شاہی نظام کے خاتمے سے پہلے بھی حالات یک دم نہیں بدلے تھے۔ 1977ء سے 1979ء تک تقریباً دو سال مسلسل احتجاج ہوئے، یہاں تک کہ عوامی دباؤ نے نظام کو مفلوج کر دیا۔ ولی نصر کے مطابق اس دوران شاہ فیصلہ سازی کی صلاحیت کھو چکے تھے اور وہ اپنے دفاع کے لیے تیار نظر نہیں آتے تھے۔ فروری 1979ء تک حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے جہاں واپسی ممکن نہیں رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کو مانسہرہ سے شکست کیوں ہوئی؟ کیپٹن(ر) صفدر کا اہم بیان سامنے آ گیا۔

موجودہ نظام کی حالت

اس کے برعکس، ولی نصر کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی قیادت میں موجودہ نظام نے اب تک یہ اشارہ نہیں دیا کہ وہ اپنا دفاع کرنے سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ ریاستی مشینری متحرک ہے اور طاقت کے استعمال سے گریز کا کوئی واضح عندیہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: مداح کا قومی کرکٹر بابراعظم کے ساتھ شادی کا سوال، پاکستانی اداکارہ نازش جہانگیر کا چونکانے والا جواب

اپوزیشن کا کردار

ایک اور بڑا فرق اپوزیشن کی نوعیت کا ہے۔ ولی نصر کے مطابق 1979ء میں شاہ مخالف تحریک نہ صرف منظم تھی بلکہ سخت نظم و ضبط کی پابند بھی تھی۔ آج کے ایران میں ایسی منظم اور متحد اپوزیشن موجود نہیں، جو کسی بڑے انقلابی نتیجے کی ضمانت بن سکے۔

مستقبل کی پیشگوئی

تجزیہ کاروں کے مطابق ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ احتجاج کسی فوری انقلابی تبدیلی میں بدل جائے گا۔ خامنہ ای کے زوال کی صورت میں بھی ایران کا مستقبل 1979ء کی تاریخ کو دہرانے کے بجائے ایک بالکل مختلف اور زیادہ پیچیدہ راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...