نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سرد جنگ کی ذہنیت ترک کردیں، چین اور روس کا مشترکہ بیان
متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں
سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے صدر کو تین ماہ میں درخواستوں پر فیصلہ کر کے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلمان کو شریعت کی ترجیح نظر انداز نہیں کرنی چاہیے: مولانا فضل الرحمان
پالیسی کی وضاحت
سپریم کورٹ نے 2019 اور 2022 میں دی گئی درخواستوں کو اُس وقت کی نافذ پالیسی کے تحت دیکھنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے سرکاری ڈاکٹروں سے میڈیکل چیک اپ اور رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، سلمان اکرم راجا
نیازی شکایات کا دور
سپریم کورٹ نے کہا کہ متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں، کوئی فیصلہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ پالیسیوں پر ماضی سے لاگو نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: سی سی ڈی کیساتھ مبینہ مقابلوں میں 4 منشیات فروش ہلاک
نئے فیصلے کی بنیاد
سپریم کورٹ کے فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک عدالت خود نہ ماضی کا ذکر کرے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی کو یقینی بنانے والا سویڈن کا اہم ترین ہتھیار
منصفانہ انتظامیات کے اصول
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2011 کی پالیسی موجودہ درخواستوں کے وقت نافذ تھی، اسی کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت سے متعلق پالیسی پر عمل نہ کرنا منصفانہ انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
سندھ ہائی کورٹ نے متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق آئینی درخواست جنرل پوسٹ آفس کیس کی روشنی میں مسترد کر دی تھی۔








