بیکن ہاؤس سکول سسٹم کا معیاری تعلیم کے فروغ اور بین الصوبائی ہم آہنگی میں اہم کردار ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کی تعریف
کراچی (پ ر) سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کے کردار کو قوم سازی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے لیے کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیکن ہاؤس نے یکساں اور معیاری تعلیم کے ذریعے قومی یکجہتی کو مضبوط کیا ہے۔ وہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم کے 50 سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب منگل کے روز کراچی میں بیکن ہاؤس پی ای سی ایچ ایس کیمپس میں منعقد ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: منشیات فروشی کے ملزم کی ضمانت مسترد
تعلیمی معیار اور شراکت داری کی اہمیت
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بیکن ہاؤس پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے ذریعے قومی اتحاد اور مشترکہ ملکی مقاصد کے فروغ میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بیکن ہاؤس کے اعلیٰ تعلیمی معیار اور یکساں نصاب کے نفاذ کو سراہتے ہوئے تجویز دی کہ بیکن ہاؤس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سندھ میں سرکاری سکولوں کے انتظام میں بھی اپنا کردار ادا کر کے حکومتِ سندھ کا ہاتھ بٹائے۔
یہ بھی پڑھیں: برازیل، فٹبال میچ کے دوران تماشائیوں میں تصادم، ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا
تقریب کی نمائشی خصوصیات
تقریب میں سینیٹر نثار احمد کھوڑو، سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق وفاقی وزیر جاوید جبار، سابق وفاقی وزیر اور موجودہ وائس چانسلر شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SZABIST) شہناز وزیر علی، سابق وزیرِ مملکت واجد جواد، ڈائریکٹر جنرل افضل احمد، ایڈیشنل ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ رافعہ ملاح، سی او او بیکن ہاؤس علی احمد خان، گروپ ڈائریکٹر علی رضا، اساتذہ اور سینئر طلباء نے شرکت کی۔ اس موقع پر بیکن ہاؤس کی بانی چیئرپرسن مسز نسرین محمود قصوری کی طرف سے ایک یادگاری کتاب ’’ایک دفعہ کا ذکر ہے‘‘ کی رونمائی بھی کی گئی۔ یہ پروجیکٹ قومی اتحاد کے فروغ کے مقصد سے 2 سال پہلے شروع کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے ڈیٹا اور نقشے مانگ لیے
ثقافتی ورثہ اور تعلیم کی اہمیت
کتاب میں پاکستان بھر سے ان لوک کہانیوں کو اکٹھا کیا گیا جو بچوں نے اپنی نانیوں دادیوں سے سنی تھیں جونسل در نسل زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوتی رہیں۔ اس کاوش کو وزیر اعلیٰ سندھ نے سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ: عمر ایوب، فیصل امین کی 19 دسمبر تک حفاظتی ضمانت منظور
مسز نسرین محمود قصوری کا خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسز نسرین محمود قصوری نے مزید کہا کہ تعلیم، اقدار اور مشترکہ قومی وثقافتی یادداشت بیکن ہاؤس کے سفر کے بنیادی مقاصد ہیں۔ ان کے مطابق، تعلیم محض کلاس روم تک محدود نہیں رہتی بلکہ نسل در نسل کردار سازی اور سماجی ذمہ داری کو تشکیل دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 50 سال پرانی 1975 مارک II، جو آج بھی نئی جیسی
بیکن ہاؤس کا مستقبل اور سماجی خدمات
بیکن ہاؤس کے سی ای او قاسم قصوری نے بتایا کہ ان کا ادارہ sustainability کو مستقبل کی حکمتِ عملی کا اہم ستون سمجھتا ہے۔ اور اس سلسلے میں وہ ملک گیر 'گرین پاکستان' مہم کے تحت مختلف شراکت داروں کے ذریعے 15 لاکھ پودے تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیکن ہاؤس کے اساتذہ ملک بھر کی کم وسائل رکھنے والی کمیونٹیز میں اساتذہ کی تربیت کے لیے مجموعی طور پر ایک لاکھ گھنٹوں سے زائد خدمات انجام دے چکے ہیں۔
خراجِ تحسین اور اختتام
تقریب کے اختتام پر سابق اساتذہ اور ایک طالب علم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مسز نسرین محمود قصوری کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ تعلیمی شعبے ان کی قومی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔









