اگر تمام پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دی جائیں تو اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے پر تیار ہیں، ایران کا اعلان
ایران کی یورینیم کی افزودگی میں کمی کی پیشکش
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے کہا ہے کہ اگر اس پر عائد تمام پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دی جائیں تو وہ اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو کم درجے تک لانے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک چین فضائیہ کے درمیان مشق انڈس شیلڈ 2024ء مکمل، پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس نے جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات کے ساتھ حصہ لیا
پابندیاں اور مذاکرات
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق محمد اسلامی سے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو dilute کرنے کے امکان سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ بدلے میں تمام پابندیاں اٹھائی جاتی ہیں یا نہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس سے مراد صرف امریکی پابندیاں ہیں یا ایران پر عائد تمام بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی کلیم اللہ خان ۹ مئی کیس میں گرفتار
یورینیم کے حوالے سے عالمی خدشات
اے ایف پی کے مطابق یورینیم کو dilute کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے دوسرے مواد کے ساتھ ملا کر اس کی افزودگی کی سطح کم کر دی جائے تاکہ وہ مقررہ حد سے زیادہ نہ رہے۔ گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں سے قبل ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا تھا، جو 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ معاہدہ اب عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حاضرین خوبصورت فرعون ملکاؤں کو سامنے دیواروں پر چلتا پھرتا دیکھ مبہوت ہوگئے، قلو پطرہ، آپس کی سازشوں اور جنگوں کے مناظر بھی دکھائے گئے
ایران کا جواب
مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، کا الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تہران اس کی تردید کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے مطابق ایران واحد ایسا غیر جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے جو 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ جنگ سے قبل ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام سے زائد انتہائی افزودہ یورینیم کہاں گیا، کیونکہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے آخری بار 10 جون کو اس کے مقام کا ریکارڈ درج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
مستقبل کے خطرات
ماہرین کے مطابق اگر اس ذخیرے کو 90 فیصد تک افزودہ کر لیا جائے تو اس سے نو سے زائد جوہری بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ایران پر یورینیم افزودگی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے، تاہم یہ شرط ایران کے لیے ناقابل قبول ہے اور 2015 کے جوہری معاہدے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہے۔
ایران کا قانونی مؤقف
ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت، جس پر وہ اور دنیا کے 190 سے زائد ممالک دستخط کر چکے ہیں، اسے پُرامن مقاصد کے لیے سول نیوکلیئر پروگرام رکھنے کا حق حاصل ہے۔








