ایران سے کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کشیدگی پر بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز اور اضافی فوجی اثاثے تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ایران سے جنگ طول پکڑتی ہے تو۔۔۔؟ برطانوی ماہرین نے متنبہ کر دیا
مذاکرات کی جاری صورتحال
العربیہ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ فوجی کارروائی سے بچا جا سکے۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد انٹربورڈ: نتائج میں تاخیر پر آئی ٹی منیجر اور ناظم امتحانات عہدے سے فارغ
ایران کی جوہری تنصیبات پر پہلے کے حملے
امریکی صدر نے گزشتہ موسمِ گرما میں ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے ان کے اقدام کرنے کے ارادے کو کمزور سمجھا تھا۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے کہا، “پچھلی بار انہیں یقین نہیں تھا کہ میں واقعی یہ قدم اٹھاؤں گا، انہوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔”
یہ بھی پڑھیں: 199 اور 201 یونٹ کے بجلی بلوں میں بڑے فرق پر انٹرنیٹ پر ہنگامہ، وزیر تعلیم پنجاب نے بھی تائید کردی
موجودہ مذاکرات کا مقصد
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے تھے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ مذاکرات اس سے بالکل مختلف ہیں اور ان کے بقول اب ایران کسی معاہدے کے لیے زیادہ بے تاب نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں اسکول بس پر دہشت گردوں کا حملہ، شہادتیں، ویڈیو تجزیہ
سخت کارروائی کا امکان
انہوں نے مزید کہا کہ ایران “شدید طور پر” معاہدہ چاہتا ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ سخت کارروائی کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، “یا تو ہم معاہدہ کر لیں گے، یا پھر ہمیں پچھلی بار کی طرح بہت سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔”
فوجی تیاریوں کی تصدیق
امریکی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ خطے میں وسیع تر فوجی تیاریوں کے تحت ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔








