صوبہ خیبر پختونخوا میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں
صوبہ خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ
لاہور( طیبہ بخاری سے ) صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں ۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 ویں این ایف سی کمیشن کی منظوری دے دی
اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد
تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس کور ہیڈکوارٹر پشاور میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، قومی سلامتی کے مشیر، اور کورکمانڈر پشاور کے علاوہ اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی خضدار میں سکول بس پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت
میچز کا انعقاد اور انتظامات
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور میں رواں سال ہونے والے پی ایس ایل (PSL) کے میچز کا انعقاد کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس اور دیگر صوبائی اداروں کے زیر نگرانی، ماڈل کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ بعد ازاں، اس کامیاب ماڈل کو خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع بالخصوص خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم، سینیئر وکیل علی احمد کرد نے بڑا اعلان کردیا
خصوصی ذیلی کمیٹی کا قیام
ان اضلاع میں شروع کیے جانے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور کسی بھی قسم کی عسکری کاروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کرے گی۔ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں قائم اس خصوصی ذیلی کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور صوبائی حکام کے علاوہ وفاقی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ، مغوی بچے کے کیس میں اہم پیشرفت
گورننس اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ خصوصی ذیلی کمیٹی ان اضلاع میں، گورننس اور ترقی کے شعبوں میں منصوبوں کی نگرانی کے علاوہ مقامی آبادی کی مستقل آمدنی کو یقینی بنانے کے لئے متبادل روزگار کی فراہمی کے مواقع پیدا کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ کمیٹی عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کے لئے مؤثر انتظامات بھی کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو ملاقات کی دعوت دی، معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، شیر افضل مروت
وفاقی اور صوبائی حکومت کے روابط
وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مؤثر رابطوں کے ذریعے دہشت گردی جیسے اہم مسئلے سے نمٹنے کے لئے اہم پالیسی امور پر مکمل ہم آہنگی اور یکساں مؤقف کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: قاسم اور سلیمان جلوس کی صورت میں اڈیالہ جیل نہیں جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر
نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع
نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام اور مثبت سوچ کے فروغ کے لئے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔
غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات
اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد، اور بھتہ خوری جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر توجہ بھی دی جائے گی۔








