16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس، 3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس میں 3 مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے علی امین گنڈاپور کی اڈیالہ جیل میں 2گھنٹے ملاقات
ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام
سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے 2 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، جس میں وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیروائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 37 دہشتگرد جہنم واصل، 10 جوان شہید
حکم نامے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عملدرآمد رپورٹ فراہم کریں۔ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق جواب دیں۔ بچوں کی عمر کے جائزہ کے میکنزم کے حوالے سے اقدامات سے بھی آگاہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ وقت اُمت میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کا ہے: ڈاکٹر طاہر القادری کا 10 ہزار سے زائد علماء , مشائخ اور خواتین مذہبی سکالرز سے خطاب
بچوں کا تحفظ
حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ سے متعلق بھی آگاہ کریں۔ بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہم ہے۔ بغیر ریگولیشن سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک ہے۔
عالمی قوانین کا حوالہ
درستگزار کے مطابق کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے دنیا بھر میں قوانین موجود ہیں۔








