روسی ڈرون حملہ، یوکرینی والد اپنے 3 کمسن بچوں سمیت ہلاک
یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں روسی ڈرون حملہ
کیف (ڈیلی پاکستان آن لائن) یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک جبکہ حاملہ ماں شدید زخمی ہو گئی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ روسی سرحد کے قریب واقع قصبے بوہودوخِیف میں پیش آیا، جہاں مقامی انتظامیہ نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خاندان اس وقت نشوونما پاتا ہے جب افراد خانہ مل جل کر رہتے ہیں،بچے کو شاباش دینے کے بجائے اپنی مرضی کا موقع مہیا کیا جائے
واقعے کی تفصیلات
یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے بدھ کے روز بتایا کہ منگل کی رات ایک روسی ڈرون نے نجی رہائشی مکان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 34 سالہ والد اور اس کے تین کمسن بچے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ 35 ہفتوں کی حاملہ ماں ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہوگئی۔ وہ اس حملے میں خاندان کی واحد زندہ بچ جانے والی فرد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے جیل میں علاج کا ریکارڈ محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال
حملے کے اثرات
خارکیف کے علاقائی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق حملہ اتنا شدید تھا کہ مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور خاندان کے افراد ملبے کے نیچے دب گئے۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں دو سالہ جڑواں بیٹے اور ایک سالہ بیٹی شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد حاملہ خاتون کو زندہ نکال لیا، تاہم انہیں دھماکے سے ہونے والے زخموں، دماغی چوٹ، جھلسنے اور سماعت متاثر ہونے جیسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ پوری دنیا میں امن کا ضامن بنے گا، علامہ طاہر محمود اشرفی
ریسکیو کی کوششیں
یوکرین کی ایمرجنسی سروس کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر فائٹرز مکمل طور پر تباہ شدہ گھر میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ٹوٹی ہوئی چھت کے شہتیروں کے درمیان سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
بین الاقوامی صورتحال
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا کی قیادت میں تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی نمایاں پیشرفت سامنے نہیں آ سکی اور زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔








