درخت کاٹنے والوں کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں: جسٹس شاہد کریم
لاہور ہائیکورٹ کی سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ درختوں کو کاٹنے والے ملزمان کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے درختوں سے متعلق جامع پالیسی بنانے کی رپورٹ آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 170 محکموں میں سرکاری ادائیگیوں کیلیے آن لائن بلنگ سلوشن متعارف کروا دیا گیا
اجلاس کی تفصیلات
سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کمیشن کی سربراہی میں درختوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ طے پایا کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل کمیشن سے مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر سلمان صفدر نے فرینڈ آف کورٹ کی ذمہ داری بخوبی نبھائی، چیف جسٹس پاکستان
پی ایچ اے کا رویہ
جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کے وکیل بیرسٹر حارث عظمت کے تاخیر سے پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ وکیل پیش نہیں ہو سکتے تو ادارے کی جانب سے کوئی اور نمائندہ عدالت میں پیش ہو، عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے کا رویہ انتہائی قابل افسوس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت، چالان سکروٹنی کے بعد عدالت میں جمع
پنجاب یونیورسٹی کی تشکیل کردہ کمیٹی
دوران سماعت پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا، یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ شیخ زید سینٹر سے 60 بڑے درخت کاٹے جانے کے معاملے پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، یونیورسٹی میں اب تک پانچ سو درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ نئے درخت لگانے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے 10 امیر ترین انسانوں کی فہرست جاری، ایلون مسک سب سے آگے
عدالتی احکامات اور مستقبل کی منصوبہ بندی
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ واضح عدالتی احکامات کے باوجود درختوں کی کٹائی تشویشناک ہے، پنجاب یونیورسٹی جیسے تاریخی ادارے میں میاواکی طرز پر جنگل لگایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے صدارتی الیکشن میں پاکستانی نژاد امیدواروں کے انتخابی نتائج کیا رہے؟
زیر بحث قوانین
پی ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درختوں کی کٹائی پر مقررہ سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ملزمان فوری ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ جب تک ضمانتیں ہوتی رہیں گی درختوں کی کٹائی نہیں رکے گی، عدالت نے استفسار کیا کہ پراسکیوٹر جنرل پنجاب سے بات کی جائے کہ ضمانتیں کیسے ہو رہی ہیں اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت دی جائے کہ قانون میں ترمیم کر کے ناقابل ضمانت دفعات شامل کی جائیں۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے مزید قرار دیا کہ یہ کارروائی کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مفاد میں کی جا رہی ہے، عدالت نے 16 فروری کو عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








