ایران کے خلاف طویل فوجی آپریشن کی تیاری، امریکی عہدیداروں کا دعویٰ
امریکا کی ایران کے خلاف آپریشن کی تیاری
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل قطر میں دوبارہ حملہ نہیں کرے گا: ٹرمپ
حملے کی پیچیدگیاں
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں دو امریکی عہدیداروں نے کہا کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہو گی، اور اس بار حملے کی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر کسی کی نمبر گیم پوری ہے تو عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟ جب تک اختیار ہے فرائض سرانجام دیتا رہوں گا، وزیراعظم آزادکشمیر
امریکا کے ممکنہ اہداف
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کا جوہری انفرااسٹرکچر ہی نہیں، اسٹیٹ اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا اور امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نظامِ تعلیم طبقاتی تفریق کا شکار ہے، تعلیم فروخت کی جا رہی ہے، ہوشربا فیسوں کے باعث غریب مگر باصلاحیت بچے داخلہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں
ایران کی دھمکی
دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کرتا پاجامہ پہننے پر مسلمان بھائیوں پر حملہ، لہولہان کردیا
فوجی بھیجنے کی تیاریاں
میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ پنٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کر رہا ہے، ہزاروں فوجی، جنگی جہاز، اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی مشرق وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خبردار ، سموگ ایمرجنسی نافذ ہے ۔۔۔کوڑا کرکٹ جلانے پر کیا سلوک کیا جائے گا ؟ جانیے
ایران کے خلاف خطرات
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہوں گے، کیونکہ ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، اور ایران کے جوابی حملوں سے علاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتاہے۔
یہ بھی پڑھیں: غریب موٹر سائیکل والے پر چالان کیے جا رہے ہیں طاقتور کو آپ کچھ کہہ نہیں سکتے ہیں؛اسد عمر
ایران کی پیش کش
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام محدود کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: یونیورسٹی انتخابات میں اسلامی طلبہ شبیر کا حمایت یافتہ پینل 3 اہم عہدوں پر کامیاب
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا مشکل رہا ہے، کبھی کبھی آپ کو ڈرنا پڑتا ہے، یہی واحد چیز ہے جو صورتحال کو سنبھالنے میں مدد دیتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی وضاحت
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں، اور وہ کسی بھی مسئلے پر مختلف نقطہ نظر کو سنتے ہیں۔ صدر ٹرمپ حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتے ہیں جو ملک اور قومی سلامتی کے لیے بہتر ہے۔








