ایران کے خلاف طویل فوجی آپریشن کی تیاری، امریکی عہدیداروں کا دعویٰ
امریکا کی ایران کے خلاف آپریشن کی تیاری
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ایرانی حکومت نے مجھے قتل کیا تو ان کا ملک مکمل تباہ کردیا جائے گا: ٹرمپ
حملے کی پیچیدگیاں
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں دو امریکی عہدیداروں نے کہا کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہو گی، اور اس بار حملے کی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد حفیظ اور پنجاب سپورٹس منسٹر نے خواجہ افتخار احمد میموریل ٹینس چیمپئن شپ کا افتتاح کر دیا
امریکا کے ممکنہ اہداف
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کا جوہری انفرااسٹرکچر ہی نہیں، اسٹیٹ اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا اور امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کے اسکواڈ کی گاڑی کو حادثہ، 2 افراد جاں بحق
ایران کی دھمکی
دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری، پاکستان کونسے نمبر پر ہے؟
فوجی بھیجنے کی تیاریاں
میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ پنٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کر رہا ہے، ہزاروں فوجی، جنگی جہاز، اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی مشرق وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: 13 سالہ لڑکے کے اغواء، زیادتی اور قتل کے مجرم کو 3 بار سزائے موت کا حکم
ایران کے خلاف خطرات
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہوں گے، کیونکہ ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، اور ایران کے جوابی حملوں سے علاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتاہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا حکومت نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ دیاہے؟ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے رپورٹ طلب
ایران کی پیش کش
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام محدود کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہو رہی ہے، خواجہ آصف
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا مشکل رہا ہے، کبھی کبھی آپ کو ڈرنا پڑتا ہے، یہی واحد چیز ہے جو صورتحال کو سنبھالنے میں مدد دیتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی وضاحت
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں، اور وہ کسی بھی مسئلے پر مختلف نقطہ نظر کو سنتے ہیں۔ صدر ٹرمپ حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتے ہیں جو ملک اور قومی سلامتی کے لیے بہتر ہے۔








