عمران خان سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد قاسم اور سلیمان خان نے اپنی پھوپھی علیمہ خانم کو کیا بتایا؟
عمران خان کی بہن کی بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر عمران خان کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق تصدیق کی جا سکتی ہے کہ عمران خان نے تقریباً 20 منٹ تک اپنے بیٹوں سے گفتگو کی، اور ان کے بیٹوں نے بتایا کہ طویل عرصے بعد ان کی آواز سن کر وہ بے حد خوش تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں 130ارب روپے شارٹ فال کا سامنا
علاج کی ضرورت
ایکس پر اپنے بیان میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کے فوری طبی علاج کا انتظار ہے، جو ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہر ڈاکٹرز ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ان کی بینائی کو بحال کیا جا سکے۔
علاج میں تاخیر کا الزام
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بروقت علاج میں تاخیر کے باعث ان کی بینائی کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔ علیمہ خان نے واضح کیا کہ مزید کسی قسم کی تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور مستقل بینائی کے نقصان سے بچاؤ کے لیے فوری طور پر ماہر طبی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔








