نائجیریا میں موٹر سائیکل سواروں کا خونریز حملہ، 32 افراد ہلاک
نائجیریا میں مسلح حملے
ابوجہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائجیریا کی شمالی ریاست نائجر میں موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد کے حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ درجنوں کو اغوا کر لیا گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے بورگو کے علاقے میں تین دیہات کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایران، اسرائیل تنازع پر اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے دکھائی دے رہے ہیں: برطانوی میڈیا کا دعویٰ
حملہ اور نقصان
ریاستی پولیس کے ترجمان واسیو ابیودون نے تصدیق کی کہ مسلح افراد نے ٹُنگا ماکیری گاؤں پر حملہ کیا، جہاں چھ افراد جان سے گئے، متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی، اور کئی افراد کو اغوا کیا گیا۔ بعد ازاں حملہ آور کونکوسو گاؤں کی طرف بڑھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا جنوبی وزیرستان آپریشن میں 4 بہادر جوانوں کی شہادت پر خراج عقیدت
کونکوسو میں تشدد
مقامی رہائشیوں کے مطابق، کونکوسو میں فائرنگ کا سلسلہ صبح سویرے شروع ہوا اور حملہ آوروں نے اندھا دھند گولیاں چلائیں۔ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 26 سے 38 تک بتائی گئی ہے۔ گاؤں میں پولیس اسٹیشن کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا اور متعدد افراد لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام
پیسہ گاؤں پر ہجوم
خبر رساں اداروں کے مطابق، حملہ آوروں نے پِیسا نامی گاؤں میں بھی کارروائی کی اور وہاں ایک شخص کو قتل کر دیا۔ علاقے کے بیشتر مکانات کو آگ لگا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحافت کے 50 برس۔۔۔ سعید آسی کے اعزاز میں شام ’گولڈن جوبلی تقریب‘ بن گئی
خودکش جنگجوؤں کا محفوظ مقام
نائجر اور کوارا ریاستوں کی سرحد کے قریب واقع کینجی جنگل کو شدت پسند اور مسلح گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں بوکوحرام اور دیگر گروہ سرگرم رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں کو اڈیالہ جیل میں قید بندی سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی
علاقائی رہنماؤں کی درخواست
مقامی مذہبی و سماجی رہنماؤں نے صدر مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مستقل فوجی اڈہ قائم کیا جائے تاکہ حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔
امریکی صدر کی تنقید
یاد رہے کہ امریکا کے صدر نے گزشتہ برس نائجیریا میں سیکیورٹی صورتحال پر تنقید کی تھی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مسیحیوں اور مسلمانوں دونوں کو شدت پسندی کا سامنا ہے اور کسی ایک مذہبی گروہ کو منظم طور پر نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔








