جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے واقعے کا مقدمہ درج
کراچی میں احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا ہے جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کے لیے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کردیا
مقدمہ درج
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، پولیس حکام نے بتایا ہے کہ زخمی پولیس افسر راجہ مسعود کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ آرام باغ میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جس میں 30 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی ایک بار پھر دراندازی کی کوشش، کون کون سے مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی؟ پاک فوج نے اعلان کردیا
احتجاج کا منظر
مقدمے میں بیان کیا گیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے برنس روڈ پر احتجاج کیا جارہا تھا۔ اس دوران مظاہرین نعرے بازی کر رہے تھے، جب پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس پر بھی حملہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخاب کا پاکستان کی سیاست پر ممکنہ اثر: کیا ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کو رہائی دلانے میں مدد کر سکتے ہیں؟-1
چوٹیں اور نقصانات
مظاہرین کے پتھراؤ کی وجہ سے دو ایس ایچ او سمیت چار پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں۔ موقع سے گولیوں کے خول، پندرہ ڈنڈے، پتھر اور 79 گیس شیل بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران اعتکاف کے خواہشمند افراد کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا گیا
ریڈ زون میں جھڑپیں
مظاہرین کے حملے کے نتیجے میں پولیس موبائل کو بھی نقصان پہنچا۔ جب مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوئے تو پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی درخواست، پاکستان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند
پولیس کی کارروائی
یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان آمنے سامنے ہونا ایک بڑا واقعہ تھا، جہاں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی جس پر رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا۔
آنسو گیس کی شیلنگ
پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس کے باعث ایک کارکن زخمی ہوگیا تھا۔








