وفاقی محتسب کا بڑا فیصلہ، بچے کی پیدائش پر والد کو بھی ایک ماہ کی چھٹی دینا لازم قرار
وفاقی محتسب کا اہم فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے 30 دن کی پیٹرنی رخصت نہ دینے پر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے بچے کی پیدائش پر والد کو بھی چھٹی دینا لازمی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل دبئی کی جانب سے جرنلزٹس میٹ اپ کا انعقاد
جرمانہ عائد
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق بینک افسر سید باسط علی کو پیٹرنٹی رخصت نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر جرمانہ عائد کر دیا۔ فوسپاہ نے اسٹیٹ بینک پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: غیر مقامی درخت لاہور کے ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں، حکومت سنجیدہ اقدامات کرے : سموگ تدارک کیلیے دائر درخواستوں پر جسٹس شاہد کریم کے ریمارکس
دفعہ کا فیصلہ
فوسپاہ کے حکم کے مطابق اسٹیٹ بینک جرمانے کی رقم میں سے 4 لاکھ شکایت گزار افسر سید باسط علی کو ادا کرے، جبکہ اسٹیٹ بینک ایک لاکھ کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائے۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر نے دوسری شادی کی لیکن پھر لوٹ آئے؛ سینیئر اداکارہ نے ’صبر آزما‘ داستان سنادی
رخصت کی ہدایات
فوسپاہ نے شکایت گزار افسر کو مختلف تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت دینے کا حکم دیا۔ اسٹیٹ بینک کو میٹرنٹی اور پیٹرنی رخصت ایکٹ 2023 کے تحت پالیسی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان کھلاڑی نے کرکٹ میں انوکھا کام کر دکھایا
صنف کی بنیاد پر امتیاز
محکمے نے فیصلہ دیا کہ پیٹرنٹی رخصت سے انکار صنفی بنیاد پر ہراسمنٹ کے مترادف ہے۔ میٹرنٹی رخصت دینا اور پیٹرنٹی رخصت سے انکار صنفی امتیاز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرعون کے مقبرے کی مانند زیرِ زمین سرنگیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟-1
والدین کی مشترکہ ذمہ داری
فوسپاہ کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں۔ پیٹرنٹی رخصت سے انکار والدین کی مشترکہ ذمہ داری اور بچے کے بہترین مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
شکایت کا پس منظر
اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ایک افسر نے پیٹرنٹی رخصت نہ ملنے پر فوسپاہ سے رجوع کیا تھا۔ بینک نے متعلقہ پالیسی موجود نہ ہونے کا کہہ کر سید باسط علی کی رخصت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔








