گورنر نے پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) اور غیرمنقولہ جائیداد تحفظ آرڈیننس جاری کر دیئے
گورنر پنجاب کا نیا آرڈیننس
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب لینڈ ریوینو (ترمیمی) آرڈیننس اور غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کردیئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا 811 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ طلباء کی زندگی میں بہتری لائے گا، وزیر تعلیم
ترمیمی آرڈیننس کا مقصد
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ترمیمی آرڈیننس سے پنجاب لینڈ ریونیو میں ڈیجیٹل نظام اور جدت کی ترویج ہو گی۔ اس کا مقصد زمین کے مالکان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے اراضی کے معاملات میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا،ہوسٹل میں رہنے کے اخراجات والد صاحب بھیجتے،یوتھ موومنٹ کو آگے بڑھانا کٹھن اور صبر آزما کام تھا
پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس
پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس میں قبضے کی منتقلی اور زر واصلات منافع کے ساتھ زمین کی تقسیم پر بات کی گئی، اور اپیلوں و نظرثانی کے عمل میں اصلاحات کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ جدید الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے سمن، نوٹسز اور اعلان کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس 9 شکار پور ضمنی الیکشن: آغا شہباز درانی کی کامیابی کے نوٹیفکیشن میں سنگین غلطی سامنے آگئی
نئے قانون میں اہم تبدیلیاں
نئے قانون کے تحت زمینوں کی حد بندی اور غیر قانونی قابضین کی بے دخلی کے لیے قانونی طریقہ کار مرتب کیا جائے گا۔ اراضی انتقال کے لیے ای رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا، اور زمین کے تمام تر انتقال ڈیجیٹل کیے جائیں گے۔ پٹواری کو صرف وراثتی انتقال کا اختیار دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، کسی کیس میں صرف بورڈ آف ریونیو کو لوئر کورٹ میں ریمانڈ کرنے کا اختیار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اکیلا مجرم نہیں اسے لانے والے بھی قصور وار ہیں، نواز شریف
غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ ترمیمی آرڈیننس
غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کے ترمیمی آرڈیننس کے تحت تنازعات کے حل کی کمیٹی کی جگہ سکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کو اہلیہ سے ’تھپڑ‘ پڑنے پر صدر ٹرمپ کا موقف بھی آگیا
سکروٹنی کمیٹی کی تفصیلات
سکروٹنی کمیٹی میں ڈی سی، ڈی پی او، اے ڈی سی آر، اے سی، ایس ڈی پی او، سرکل ریوینو افسر اور پولیس سٹیشن کے انچارج افسر شامل ہوں گے۔ غیر قانونی قبضے کے جرم میں 5 سے 10 سال سزا کے علاوہ 10 ملین تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا نفاذ ہوگا۔
جھوٹی شکایت کے صورت میں 5 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ 5 سال تک کی سزا ہوگی۔
پہلے قانون کے تحت شکایت تنازعات کے حل کی کمیٹی کے سامنے کی جاتی تھی، جبکہ اب شکایت حاضر سروس ججز پر مبنی ٹربیونل کے سامنے فائل کی جائے گی، جو 3 دن کے اندر سکروٹنی کمیٹی کو رپورٹ کرنے کے لیے پابند ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی نوید سنا دی
ٹریبونل کے فیصلے کی مدت
سکروٹنی کمیٹی 30 دن کے اندر رپورٹ جمع کرائے گی، جبکہ پہلے قانون میں یہ مدت کمشنر کی اجازت سے مزید 90 دن آگے بڑھائی جا سکتی تھی۔ ٹریبونل 30 دن میں فیصلہ کرے گا، جبکہ پہلے یہ معیاد 90 دن تھی۔ ٹریبونل کو ایک ہی مقدمے میں منسلک جرائم کی سماعت کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے بجائے ٹریبونل کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ آرڈیننس کے اجراء کے بعد حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹریبونل کے ممبر ہوں گے، جب کہ پہلے ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے ریٹائرڈ ججز ممبر تھے۔
قانون میں ترامیم کا پس منظر
خیال رہے کہ جائیداد ملکیت تحفظ کے ایکٹ پر لاہور ہائیکورٹ نے عملدرآمد روک دیا تھا، جس کے بعد ترامیم کی گئیں۔








