اسلام آباد: سڑکوں پر افطار کرانے کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار
Islamabad Administration's New Decision for Ramadan 2026
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے رمضان 2026 سے قبل ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سڑکوں اور عوامی مقامات پر افطار دسترخوان لگانے کے لیے پیشگی اجازت اور باقاعدہ رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے ڈیجیٹل ٹریفک چالان ’’ون ایپ‘‘ کا افتتاح کر دیا
Reasons Behind the Decision
نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے مطابق حکام کے مطابق یہ اقدام ٹریفک کی روانی، سکیورٹی خدشات اور صفائی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف شاہراہوں، چوراہوں اور فٹ پاتھوں پر بغیر اجازت افطار دسترخوان لگانے سے ٹریفک جام اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: خبردار ۔۔پہلا سائیبر پیٹرولنگ اینڈ کوئیک رسپانس سیل قائم،کیا مانیٹر اور رپورٹ کیا جا رہا ہے ؟ جانیے
Impact on Emergency Services
بعض مقامات پر ہنگامی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث شہریوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم منظور ہونے پر ممکنہ طور پر نیا چیف جسٹس کون ہوگا؟ بڑا دعویٰ
New Regulation for Organizers
نئے فیصلے کے تحت جو بھی تنظیم، فلاحی ادارہ یا شہری گروپ عوامی افطار کا اہتمام کرنا چاہے گا، اسے متعلقہ اسسٹنٹس کمشنر آفس یا ضلعی انتظامیہ سے پیشگی این او سی حاصل کرنا ہوگا۔
درخواست گزاروں کو مقام، وقت، متوقع شرکا کی تعداد اور سیکیورٹی و صفائی کے انتظامات کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی。
یہ بھی پڑھیں: عبدالطیف چترالی نااہلی کیس ؛پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو این اے ون چترال میں ضمنی الیکشن روکنے کاحکم دیدیا
Legal Consequences for Non-compliance
ضلعی حکام نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت سڑک یا عوامی جگہ پر افطار دسترخوان لگانے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانہ اور سامان کی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلی مرتبہ پٹری 1889ء کے سیلاب میں بہہ گئی جبکہ اسے بنائے صرف 2 برس ہوئے تھے، سیلابی کیفیت سے چھوٹے بڑے پلوں کو بھی شدیدنقصان پہنچا
Encouragement of Charitable Activities
تاہم فلاحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی، بشرطیکہ وہ مقررہ ضابطہ کار کے مطابق انجام دی جائیں۔
Public Reaction to the Decision
شہری حلقوں نے فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ افراد اسے نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔
دیگر کا کہنا ہے کہ فلاحی سرگرمیوں کو سہل بنانے کے لیے رجسٹریشن کا عمل سادہ اور تیز ہونا چاہیے۔








