بی او پی کی ایک اور سال ریکارڈ مالی کارکردگی، آپریشنل منافع میں 99 فیصد اضافہ، ڈپازٹس 2 کھرب روپے سے تجاوز کر گئے
اجلاس کا آغاز
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) 17 فروری 2026 کو ہونے والے اجلاس میں دی بینک آف پنجاب (بی او پی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے سال کے آڈٹ شدہ مالی نتائج کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس ہر جمعے کو طلب کرنے کا فیصلہ
کارکردگی کا جائزہ
بورڈ نے بینک کی شاندار کارکردگی پر انتظامیہ کو سراہا اور کہا کہ بینک نے تمام شعبوں میں بہترین مالی نتائج حاصل کیے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں رکھی گئی مضبوط بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے، بینک نے کم ہوتے منافع کے مارجن، بڑھتے مقابلے، عالمی معاشی حالات اور بدلتے ہوئے قواعد و ضوابط بشمول 9 IFRS کے نفاذ جیسے چیلنجز کا کامیابی سے سامنا کیا۔ اس دوران بینک نے خطرات کے محتاط انتظام اور اخراجات پر سخت کنٹرول کی پالیسی برقرار رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں پرتشدد مظاہرین نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ کو زندہ جلا دیا
ڈیجیٹل تبدیلی اور سرمایہ کاری
سال کے دوران بینک نے ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں پر مزید کام کیا اور ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پر مبنی جدت میں بڑی سرمایہ کاری کی، تاکہ صارفین کو بہتر سہولت اور نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ ان اقدامات کی بدولت 2025 میں بینک کا قبل از ٹیکس منافع 35.80 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایڈمرل یسطور الحق ملک کے انتقال پر اظہارافسوس
منافع اور ڈیویڈنڈ
مضبوط مالی کارکردگی کے اعتراف میں بورڈ نے سال 2025 کے لیے 1.50 روپے فی حصص حتمی نقد منافع کا اعلان کیا، جبکہ 1.00 روپے فی حصص عبوری منافع پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے۔ یہ بینک کی تاریخ میں منافع اور ڈیویڈنڈ کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 14 دوستوں کو قتل کرنے والی لڑکی کو سخت سزا سنا دی گئی، تہلکہ خیز انکشافات
ڈپازٹس اور صارفین کا اعتماد
31 دسمبر 2025 تک بینک کے کل ڈپازٹس 2 کھرب روپے سے بڑھ گئے، جو صارفین کے اعتماد اور مؤثر ڈپازٹ حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹس میں 34 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 476 ارب روپے تک پہنچ گئے، جس سے کم لاگت فنڈنگ میں بہتری آئی۔
یہ بھی پڑھیں: مرحوم عرفان صدیقی کی رسم قل ادا کر دی گئی، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد کی اجتماعی دعا میں شرکت
آمدنی میں اضافہ
آمدنی میں بھی تمام شعبوں میں مضبوط اضافہ ہوا۔ نیٹ انٹرسٹ انکم بڑھ کر 81.10 ارب روپے ہو گئی، جو 84 فیصد سالانہ اضافہ ہے۔ دیگر نانـمارک اپ انکم میں بھی 23 فیصد اضافہ ہوا۔ بینک اخراجات پر قابو رکھتے ہوئے اور ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال سے کارکردگی میں بہتری لایا، جس کے نتیجے میں کاسٹ ٹو انکم ریشو 59.65 فیصد تک بہتر ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سچ اور حقیقت کوئی سننا ہی نہیں چاہتا،عجیب سوچ ہے ہم لوگوں کی۔وہ اندر باہر سے ایک جیسی،منہ پر ایسی سچ بات کہہ جاتیں جو سننے والے کو ناگوار گزر تی۔
پائیداری کے اصول
سال کے دوران بینک نے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG)، صنفی توازن اور خصوصی افراد کی شمولیت جیسے اصولوں پر بھی بھرپور توجہ دی اور پائیداری کو کاروباری پالیسی کا حصہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی اور انوشکا شرما کونسا پانی پیتے ہیں؟ قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے.
حکومتی شراکت داری
بینک نے حکومتِ پنجاب کے اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر بھی اپنا کردار مضبوط کیا اور صوبے کی ترقی اور سماجی بہبود کے منصوبوں میں فعال حصہ لیا۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے زرعی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) اور نقد امدادی پروگراموں میں بھی مؤثر کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اپنی جماعت کے امیدوار کے زہران ممدانی سے ہارنے کی وجہ بتا دی
صارفین کی خدمات میں بہتری
مزید برآں، بینک نے صارفین کی تعداد بڑھانے اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ ڈیجیٹل اور برانچ کے ذریعے اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت میں اضافہ کیا گیا اور نئی ڈپازٹ اسکیمیں متعارف کرائی گئیں، جن میں بی او پی محفوظ سرمایہ کاری اکاؤنٹ شامل ہے۔ 78 فیصد سے زیادہ صارفین کے لین دین کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کیا گیا۔ اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے آگاہی مہم بھی شروع کی گئی اور اس کی تیاریوں کو آگے بڑھایا گیا۔
جدت کا عزم
بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ جدت، ڈیجیٹل ترقی اور صارفین پر توجہ کی مستقل حکمت عملی نے بینک کی طویل مدتی پائیدار ترقی کی بنیاد مزید مضبوط کی ہے۔ یہ نتائج بینک کے مضبوط کاروباری ماڈل اور بدلتے حالات میں مؤثر حکمت عملی کا واضح ثبوت ہیں، جو آج اور آنے والے برسوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے دیرپا فائدہ فراہم کرتے رہیں گے。








