چھ مقدمات کی سماعت: عمران خان کو عدالت لانے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم
اسلام آباد کی عدالت میں عمران خان کے کیسز کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کے خلاف چھ کیسز کی سماعت کی۔ اس دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے۔ عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 13 ارب روپے گرانٹ کی منظوری دیدی
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سابق وزیر شاہنواز رانجھا کو قتل کرنے کی کوشش سمیت دیگر پانچ کیسز کی سماعت ہوئی جس میں سلمان صفدر نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی ایک ہی ڈگر پر چلتی جارہی تھی، شام اچھی کٹ جاتی تھی، رمی میں میں اس کا پتہ روک لیتا، اسے جتا دیتا اور خود ہار جاتا، یہ ہار مجھے آج بھی پسند ہے۔
حاضرین اور سماعت کی کارروائی
عمران خان کی جانب سے وکیل سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عمران خان کی تینوں بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: نائجیریا نے داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کی تصدیق کر دی
درخواست ضمانت پر بحث
عمران خان کی 6 درخواست ضمانتوں پر وکیل سلیمان صفدر نے دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب آپ کے پاس پیش ہوا تو ریلیف لے کر گیا تھا، اور حکومت کی غفلت نے ان کی ضمانت کی بنیاد فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا سے کشیدگی میں اضافہ، امریکہ نے ایف 35 طیارے پورٹو ریکو بھیجنے کا اعلان کردیا
حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی
سلمان صفدر نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا تو سپرنٹنڈنٹ جیل کو پیش ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: سارہ شریف قتل کیس: سوتیلی ماں ہی اصل ملزم قرار، پاکستانی نژاد والد کا عدالت میں بیان
عدالت کا حکم
عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ جج افضل مجوکہ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام تفتیشی افسران ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔
عمران خان کے خلاف مقدمات کی حیثیت
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت مقدمات درج ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں پر ایک مقدمہ درج ہے۔








