پنجاب: ایچ آر سی پی نے سی سی ڈی کے مقابلوں کی مخالفت میں اہم مطالبہ کر دیا
ایچ آر سی پی کا سی سی ڈی کے مقابلوں کیخلاف مطالبہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایچ آر سی پی نے سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کے خلاف ایک اہم مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی کے لاہور سے 5 اور اسلام آباد سے ایک افسر لاپتہ، ہیڈ آفس سمیت دفاتر کی صورتحال خراب
منظم پالیسی بنانے کا مطالبہ
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پنجاب کے پولیس مقابلوں کے لیے ایک منظم پالیسی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خلیل الرحمٰن قمر کو نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی، ڈیڑھ کروڑ تاوان کا مطالبہ
عدالتی کمیشن کا مطالبہ
ایچ آر سی پی نے سی سی ڈی کی کارروائیوں کے خلاف ایک عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے ساتھ مل کر سی سی ڈی کے مقابلوں پر تحقیقات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان عباسی نے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سے پہلی ملاقات کا احوال سنا دیا
جعلی پولیس مقابلوں کی رپورٹس
’’جنگ‘‘ کے مطابق، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے سی سی ڈی کے طریقۂ کار پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، ٹیکنو سٹی کی 12 ویں منزل پر آگ بھڑک اٹھی
پابندی کی سفارش
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر سی سی ڈی کے مقابلوں پر پابندی عائد کی جائے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے جعلی ان کاؤنٹر کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ گزشتہ 8 ماہ میں سی سی ڈی 670 مقابلے کر چکا ہے جس میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے، جبکہ صرف 2 پولیس اہلکار جان سے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت آئی ایم ایف سے پاکستان کو بیل آؤٹ دینے سے روکنے میں ناکام کیوں ہوا؟
انسانی حقوق کے ضابطوں کی خلاف ورزی
ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی سی ڈی کے مقابلے انفرادی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی طریقۂ کار لگتے ہیں۔ ان کے طریقۂ کار سے ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ضابطوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ سی سی ڈی پر عدالتی اور مجسٹریٹی انکوائریوں کی عدم موجودگی تشویش ناک ہے، اور متاثرہ خاندانوں نے خوف، دباؤ اور دھمکیوں کی شکایات درج کرائی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن یادیو جیسا ایک اور بھارتی اہلکار گرفتار، یہ کہاں سے پکڑا گیا اور اس کا نام کیا ہے؟ بڑا انکشاف
پولیس کا یکساں بیانیہ
تشویش ناک بات یہ ہے کہ پولیس نے یکساں بیانیہ اپنایا ہے کہ مشتبہ افراد نے پہلے فائر کیا، تب ملاقات کا واقعہ پیش آیا۔
فوری عارضی پابندی کی سفارش
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبۂ پنجاب میں پولیس مقابلوں پر فوری عارضی پابندی کی سفارش کی جائے۔








