چینی ساختہ روبوٹ کو اپنا روبوٹ قرار دینے والی بھارتی یونیورسٹی کو ’انڈیااے آئی امپیکٹ سمٹ‘ سے نکال دیا گیا
بھارت کی یونیورسٹی کا تنازعہ
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی ایک نجی یونیورسٹی کو چینی ساختہ روبوٹ کو یونیورسٹی کا تیار کردہ روبوٹ قرار دینے پر ملک کے مرکزی اے آئی سمٹ میں اپنا سٹال خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صارفین کی شکایات کے ازالے کیلیے لیسکو ہیڈ کوارٹرز میں ای کچہری، فوری احکامات جاری
پروفیسر نہا سنگھ کی وضاحت
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، گلگوٹیاس یونیورسٹی کی کمیونیکیشنز کی پروفیسر نہا سنگھ نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ کو اورین سے ملنا چاہیے، یہ گلگوٹیاس یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس نے تیار کیا ہے'۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کو حد سے زیادہ رعایتیں کیوں دیں۔۔۔؟ بھارتی کسان سراپا احتجاج، شہر شہر ریلیاں
سوشل میڈیا پر تنقید
تاہم سوشل میڈیا صارفین نے جلد ہی نشاندہی کی کہ مذکورہ روبوٹ دراصل چین کی کمپنی یونیٹری روبوٹکس کا تیار کردہ ماڈل 'یونیٹری گو 2' ہے جو تقریباً 2800 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے اور دنیا بھر میں تحقیق اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر کا قرض اتارنے کیلئے ماں نے ایک ماہ کے نومولود کو بیچ دیا
وزیر آئی ٹی کی ردعمل
خبررساں ایجنسی کے مطابق، معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے مذکورہ ویڈیو کلپ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا، تاہم تنقید کے بعد یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی پر افغانی ہونے پر شناختی کارڈ منسوخی کے خلاف کیس، وزارتِ داخلہ کو 30 روز میں اپیل پر فیصلہ کرنے کا حکم
یونیورسٹی کی وضاحت
بعد ازاں گلگوٹیاس یونیورسٹی اور نہا سنگھ نے وضاحت کی کہ روبوٹ یونیورسٹی کی تخلیق نہیں تھا اور ادارے نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔
تنقید کا سامنا
اس واقعے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے بھارت کے مصنوعی ذہانت کے عزائم کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔








