تم کیا شاہ رخ خان ہو، 4شادیوں کیسے کرلیں؟ جسٹس ہاشم کاکڑ کا مقتول کے والد سے استفسار
سپریم کورٹ میں سزائے موت کے مجرم کی اپیل
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سزائے موت کے مجرم کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ہاشم کاکڑ نے مقتول کے والدہ سے استفسار کیا کہ تم کیا شاہ رخ خان ہو، 4 شادیوں کیسے کرلیں؟
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ سناکشی نے شوہر سے طلاق کی پیشگوئی کرنے والے صارف کو کرارا جواب دیدیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سزائے موت کے مجرم کی اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین، فوج کو طلب کر لیا گیا
مقتول کے والد کا ردعمل
مقتول کے والد نے کمرہ عدالت میں ویڈیو لنک پر موجود سابقہ اہلیہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں اقدامات شروع کردیے
مقتول کی والدہ کی معافی کی خواہش
وکیل مدعی نے کہاکہ مقتول کی والدہ مجرم کو معاف کرنا چاہتی ہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک پر کون ہے؟ وکیل نے کہا کہ خاتون سامنے کھڑے شخص کی سابقہ بیوی ہے، جو قتل ہوا وہ ان دونوں کا بیٹا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں کمی کا اعلان
والد کی شادیوں کی تعداد
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ مقتول کے والد کی کتنی شادیاں ہیں؟ والد مقتول نے کہاکہ میری چار شادیاں ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ تم کیا شاہ رخ خان ہو، 4 شادیوں کیسے کرلیں؟
یہ بھی پڑھیں: سانگھڑ میں سفاک بیٹے نے ماں کو قتل کر کے لاش بستر میں چھپا دی
وکیل کا بیان
وکیل نے کہاکہ یہ پہلے کہہ رہا تھا کہ اس کی 2 بیویاں ہیں، اب کہہ رہا ہے 4 ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مقتول کی والدہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ بی بی آپ ملزم کو معاف کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ والدہ مقتول نے کہاکہ میں ملزم کو اللہ کے واسطے معاف کرنا چاہتی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: وٹس ایپ ہیکنگ کے حوالے سے این سی سی آئی اے کا انتباہ
عدالت کی کارروائی
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ آپ پر پریشر ڈالا گیا ہوگا، وکیل ملزم نے کہاکہ سزائے موت کو عمر قید میں ہی تبدیل کردیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ راضی نامہ دکھا دیں پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔
آئندہ سماعت کی ہدایت
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ یہ کوئی بادشاہت کا دور تھوڑی ہے کہ راضی نامے ہوں، عدالت نے آئندہ سماعت لاہور رجسٹری میں مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔








