آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد کو دھمکی آمیز خط موصول، مسلم کمیونٹی پریشان، تحقیقات شروع
دھمکی آمیز خط کی وصولی
سڈنی (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد کو دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے۔ ماہِ رمضان کے دوران ہر رات تقریباً 5 ہزار مسلمانوں کی مسجد میں آمد متوقع ہے۔ مسلم کمیونٹی بہت پریشان ہے، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایسی سوچ بھی نہیں آنی چاہیے کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور جوابی ردعمل نہیں ہوگا: پاکستانی سفیر
تحقیقات کا آغاز
تفصیلات کے مطابق، آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد کو ماہِ رمضان میں دھمکی آمیز خط موصول ہونے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سڈنی کے مغرب میں لکیمبا مسجد کو بھیجے گئے خط میں مسلمانوں کو مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کی لاش 6 ماہ سے زیادہ پرانی لگتی ہے، ایس ایس پی ساؤتھ کا انکشاف
جنگ کی اطلاع
’’جنگ‘‘ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خط موصول ہونے سے چند ہفتے پہلے مسجد کو بذریعہ ای میل ایک تصویر بھیجی گئی تھی، جس میں مسجد کو جلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ پولیس نے مسجد کے عملے کو دھمکی آمیز ای میل بھیجنے کے الزام میں ایک 70 سالہ شخص کو گرفتار کر کے اس پر فردِ جرم بھی عائد کی ہے۔ حالیہ دھمکی آمیز خط موصول ہونے پر پولیس نے کہا ہے کہ خط کو فرانزک ٹیسٹنگ کے لیے بھیجا گیا ہے اور مسجد سمیت تمام مذہبی مقامات کے ساتھ ساتھ اجتماعی تقریبات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس جانے والے آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ
سیکیورٹی کی درخواست
مسجد کو چلانے والی لبنانی مسلم ایسوسی ایشن نے آسٹریلوی حکومت سے اپیل کی ہے کہ مسجد کی سیکیورٹی کے لیے اضافی گارڈز کی تعیناتی اور سی سی ٹی وی کیمرے لگوانے کے لیے مزید فنڈز فراہم کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی کی مذاکرات کی پیشکش ، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنے بنیادی نکات پیش کر دیئے
مسلم آبادی کا تناسب
آسٹریلوی بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق لکیمبا کے مضافاتی علاقے میں 60 فیصد سے زیادہ مسلمان باشندے رہائش پذیر ہیں اور ماہِ رمضان کے دوران ہر رات تقریباً 5 ہزار لوگوں کی مسجد میں آمد متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر چیف کے سابق امیدوار جواد سعید کو بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا کا انکشاف
کمیونٹی کی تشویش
کینٹربری بینک ٹاؤن کونسل کے میئر بلال ال ہائیک کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز خط موصول ہونے کے بعد مسلم کمیونٹی بہت پریشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انگریزوں نے طاقت کے بل بوتے دو پریمیوں کو جدا کرکے انکے مقبروں کے عین وسط میں سے ریل گاڑی کی پٹری نکال کر دو احاطوں میں تقسیم کر دیا۔
وزیرِ اعظم کی مذمت
آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانی نے بھی حالیہ دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔
مسلمان مخالف جذبات میں اضافہ
واضح رہے کہ آسٹریلوی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2023ء کے آخر میں شروع ہونے والی غزہ جنگ کے بعد سے آسٹریلیا میں مسلمان مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔








