بڑے سے بڑے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، قانون اور حکومت کی رٹ کے سامنے طاقتور انسان اور امیر کمزور تر ہوتا ہے، بس ہمت کی ضرورت ہے۔
مصنف
شہزاد احمد حمید
یہ بھی پڑھیں: ریاض میں عالمی دفاعی نمائش، 80 ممالک شریک، بھارت کو ناکوں چنے چبوانے والے پاکستان کے فتح 2 سمیت دیگر میزائل بھی موجود
قسط
445
یہ بھی پڑھیں: تاج حیدر کی خالی سینیٹ نشست پر وقار مہدی کو ٹکٹ جاری
ریکوری چار کروڑ
کمشنر کے ڈنڈے اور میری توجہ سے گوجرانوالہ ڈویثرن کی ٹی ایم ایز کے واجبات کی 4 کروڑ روپے کی خطیر رقم وصول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس سے پورے ڈویثرن کی ٹی ایم ایز پر ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ نقشہ پاس کرائے اور نقشہ فیس جمع کرائے بغیر عمارت کی تعمیر کم از کم اب ممکن نہیں رہی۔ بڑے بڑے پلازے اور کمرشل عمارات سیل کئی گئیں اور واجبات کی ادائیگی کے بعد ہی انہیں دوبارہ تعمیر کی اجازت ملی۔ چند بلڈنگز تو سرے سے مسمار کر دی گئیں۔ اس کاوش کے نتیجہ میں ڈویثرن کی 3 ٹی ایم ایز سرائے عالمگیر، کھاریاں اور شکر گڑھ اپنے ملازمین کی تنخواہیں دینے کے قابل ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہ سیز فائر، نہ مذاکرات، امریکہ کو کوئی کال نہیں کی، ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے دعوے کی تردید کردی
کٹھن وقت اور قانون کی حکمرانی
اسد شاہ (ٹی ایم او اروپ ٹاؤن)، ارشد گوجر (ٹی ایم او کھیالی ٹاؤن)، عارف طفیل (ٹی او آرار وپ ٹاؤن)، اشفاق وڑائچ (ٹی ایم او پھالیہ)، خرم وڑائچ (ٹی ایم او گجرات)، ندیم سندھو (ٹی ایم او منڈی بہاؤالدین) اور حیدر (ٹی ایم او حافظ آباد) نے اس دوران کڑا وقت دیکھا۔ ان کی اکثر خوب دھنائی ہوتی تھی۔ میرا پختہ یقین ہے کہ قانون کی حکمرانی سے بڑے سے بڑے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ قانون اور حکومت کی رٹ کے سامنے طاقت سے طاقت ور انسان اور امیر سے امیر آدمی کمزور سے کمزور تر ہوتا ہے۔ بس ہمت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی ایشیا میں تنازعات کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتے ہیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا
یونین کونسلوں کی بہتری
یہاں یونین کونسلوں کے حالات بھی کوئی بہتر نہ تھے۔ اپنے ڈسٹرکٹ آفسران خاقان چیمہ (گوجرانوالہ)، ناصر وڑائچ (ناروال)، محمد ارشد (سیالکوٹ)، الطاف جگ (حافظ آباد)، چوہدری ریاض (گجرات) اور ظفر گوندل (منڈی بہاؤالدین) کے ساتھ مل کر یونین کونسلوں کی بہتری کے لئے اقدامات کئے۔ خود بھی سرپرائیز دورے کرتا، غیر حاضر اور نامکمل ریکارڈ رکھنے والے سرکاری عمال کے خلاف سخت کاروائی کی، نتیجہ یہ نکلا کہ ان اداروں میں بھی بہتری آنے لگی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا: ‘ہمیں امید ہے کہ علی امین گنڈاپور اس بار ہمیں مایوس نہیں کریں گے’
سرپرائیز دورے کی کہانی
یونین کونسل ونڈالہ کے ایک نائب قاصد نے مجھ سے ہی تاخیری اندراج کے لئے 10 ہزار روپے مانگ لئے تھے۔ ہوا یوں کہ میں اس یونین کونسل کے دفتر صبح کے کوئی نو دس بجے پہنچا۔ گرمیوں کے دن تھے اور وہاں کافی لوگ جمع تھے۔ مجھے کوئی نہیں جانتا تھا۔ معلوم ہوا سیکرٹری ابھی نہیں پہنچا جبکہ نائب قاصد ہی تمام کام کرتا تھا۔ اسے بلایا تو وہ بڑے افسر کی چال چلتا آیا اور بولا; "جی جناب! کی کم اے۔" میں نے کہا; بچے دی جمن پتری بنوانی اے۔بچے دا ناں درج نہیں، کی طریقہ اے۔" وہ بولا; 10 ہزار لگیں گے۔ 2دن بعد آ کر پرچی لے جانا۔ میں نے کہا; "پتر کو ئی کمی بیشی۔" کہنے لگا; "توسی 9 دے دینا۔ کوائف لکھ دیو۔" میں اس کی دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں غیرملکی خاتون کو ہراساں کرنے والا محلہ دار گرفتار، حنا پرویز بٹ کی متاثرہ سے ملاقات
معطل کرنے کا فیصلہ
میں نے فون کرکے اپنی جیپ منگوائی جو کچھ دور کھڑی تھی۔ وہ میرے ڈرائیور کو جانتا تھا۔ میرے ساتھ خدا بخش تارڑ سپرنٹنڈنٹ بھی تھا۔ اب اس کی حیرانی اور پشیمانی قابل دید تھی۔ وہ میرے پاؤں میں گر گیا۔ میں نے اسے اور اس کے سیکرٹری دونوں کو ہی معطل کر دیا۔ اب معطل کرنا میرا اختیار تھا۔ نائب قاصد اور سیکرٹری کو نوکری سے برخاست کیا مگر آفریں ہماری عدلیہ کا کہ وہ پوری بات جانے بغیر ہی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کئے جانے فیصلے نہ صرف معطل کردیتی تھی بلکہ اکثر بلا جواز ایسے کرپٹ ملازمین کو بحال کرکے انتظامی فیصلوں کا مذاق بھی اڑاتی تھی۔ حالانکہ "پیڈا ایکٹ" میں لکھا ہے عدالت ایسے فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
پاکستان کا نظام عدل
یہ پاکستان ہے، یہاں عدلیہ کچھ بھی کر سکتی ہے یا اس سے جیسا چاہیں فیصلہ کروا لیں۔ یہ سپیکر کی رولنگ کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے، یہ طاقت ور کے لئے رات کو بھی لگ اور سج سکتی ہے اور یہ وہ کچھ بھی کر سکتی ہے جس کا کسی کو تصور بھی نہ ہو۔ مراعات میں دنیا کی پہلے 5 نمبروں میں ایک ہے جبکہ انصاف دینے میں اس کا ایک سو تیسواں (130) نمبر ہے۔ آگے چل کر بھی اس عدلیہ کی زیادتیوں کے حوالے سے کچھ اور مثالیں پڑھنے کو ملیں گی جن کو پڑھ کر اندازہ ہو گا کہ عدلیہ نے بھی انتظامیہ کے ہاتھ کس حد تک باندھ کر رکھے ہیں۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








