سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم رکن رانا شوکت کے اپنے ساتھی اراکین پر قتل کی دھمکیوں کے الزامات
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں دھمکیوں کا انکشاف
کراچی (ویب ڈیسک) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم رکن رانا شوکت نے اپنے ساتھی اراکین پر قتل کی دھکیوں کے الزامات عائد کیے ہیں، سپیکر سندھ اسمبلی نے پولیس کو ایوان میں طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدم اعتماد صرف میں لا سکتا، کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں: صدر مملکت
رانا شوکت کا الزام
ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رانا شوکت نے اپنے ساتھی شارق جمال پر قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شارق جمال نے دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پرانی پی ایس پی کا ایم این اے ہے"، اقبال محسود نے بھی مجھے دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خالد مقبول گروپ سے تعلق رکھتا ہوں، مجھے دھمکی دی گئی کہ باہر نکلو، دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید سے مل کر کیا پلان بنایا گیا، کن شخصیات سے رابطہ کیا گیا۔۔؟ شہلا رضا نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا
رانا شوکت کی درخواست
رانا شوکت نے کہا کہ میں گزارش کرتا ہوں کہ میں اسمبلی ممبر ہوں، متعلقہ تھانے کو بلا کر میری ایف آئی آر داخل کروائی جائے، دوسری صورت میں میں اس ایوان سے استعفیٰ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرا جنم سندھ کی دھرتی میں ہوا ہے، استعفیٰ دوں تو اس کے بعد دیکھتا ہوں کون میرا کیا کر سکتا ہے۔ ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ میرے دفتر آیا اور تالے توڑے، یہ ایوان سے باہر کا مسئلہ تھا میں اسمبلی میں اس پر نہیں بولا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لا کھڑا کیا: احسن اقبال
وزیر داخلہ کا بیان
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات ہونا مناسب نہیں ہے۔ اسپیکر ہاؤس کا کسٹوڈین ہے، آپ رولنگ دیں، آپ ایس ایچ او کو بھی کال کر سکتے ہیں، ایس ایچ او ایریا کا انچارج ہوتا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ہم اپنے معزز ممبر کو بھی نہ بچا سکے تو پھر کیا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس: بھارت کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان
اجلاس کا اختتام
انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ حل ہو جائے تو ٹھیک ہے، شوکت راجپوت بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔ سپیکر سندھ اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے کہا کہ آپ اجلاس ختم ہونے سے پہلے معاملہ حل کریں، بصورت دیگر میں ان کی ممبر شپ معطل کروں گا۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ سربھی چندنا نے کرن شرما سے شادی کے 6 مہینے بعد خاموشی توڑ دی
آگے کی کارروائی
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی گروپنگ باہر کا معاملہ ہے۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ درخواست ہے کہ اس موضوع کو معطل کرکے روٹین کی کارروائی جاری رکھیں۔ بعدازاں اجلاس کل دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
خالد مقبول صدیقی کی کارروائیوں کا مطالبہ
دوسری جانب خالد مقبول صدیقی نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے معاملے کی رپورٹ طلب کر لی۔








