سفارتکاری اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں، امریکہ نے حملہ کیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی: ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی میڈیا کو انٹرویو
ایران کی وزیر خارجہ کی جدید بیان
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سفارتکاری اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں، اگر امریکہ نے حملہ کیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ احترام کی زبان میں بات کی جائے گی تو احترام سے جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر میرا اثر و رسوخ ہوتا تو آج چیئر مین پی سی بی ہوتا، شاہد آفریدی
جوہری معاملے کا حل
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات ہیں۔ اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2 سے 3 روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا جائے گا، جس کے بعد یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کی جائے گی۔ مذاکرات کے دوران جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش نہیں کی گئی اور نہ ہی امریکہ نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں روسٹرم پر گیا، چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کو سلام کیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا; سہیل آفریدی
فوجی حل کی عدم موجودگی
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جوہری معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ اگر کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا، تو یہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا، اور امریکہ کا حملہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی حکومتوں کے خلاف پیغام
عباس عراقچی نے امریکی صدر اور اراکین کانگریس کو پیغام دیا کہ امریکی حکومتیں ایران کے خلاف تقریباً ہر حربہ آزما چکی ہیں۔ جنگ، پابندیاں یا اسنیپ بیک، کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوا۔ اگر ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کی جائے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے، لیکن اگر طاقت کی زبان اختیار کی گئی تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔








