پاکستان سمیت 14 اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کی مذمت
وزرائے خارجہ کا اسرائیل میں امریکی سفیر کے بیان کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان سمیت 14 اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ایک مشترکہ اعلامیے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عرب، ریاست قطر، ریاست کویت، سلطنت عمان، مملکت بحرین، لبنانی جمہوریہ، شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی، عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل نے بھی دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں: زیمبیا سے ڈی پورٹ ہونے والے 3 پاکستانی وطن واپسی پر گرفتار
امریکی سفیر کے بیان کی خطرناک نوعیت
امریکی سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، اسلامی ممالک کے اعلامیے میں امریکی سفیر کے بیان کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی مذمت
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، امریکہ کا 10 ایف 35 طیارے کیریبین جزیرہ پر بھیجنے کا اعلان
ٹرمپ کے وژن کے خلاف بیان
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم کے لیے سعودی عرب کا خصوصی پروٹوکول، سعودی فضائی حدود میں پہنچنے پر تاریخی استقبال
امریکی سفیر کے بیانات کی مخالفت
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ ٹرمپ کا جامع منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے امریکی سفیر کے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی صدر مملکت کو رحم کی اپیل کے لیے اہم قانونی تقاضا پورا کر لیا گیا
مشترکہ بیان میں واضح مؤقف
مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں، وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد اشرف تارڑ وزیراعلیٰ مریم کے مشیر برائے خصوصی اقدامات مقرر
امن کی امیدوں کو نقصان
اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا، ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
فلسطینی عوام کے حق کی حمایت
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔








