صومالیہ اور پاکستان میں دفاعی معاہدہ زیر غور، جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات میں اہم پیشرفت
صومالیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی مذاکرات
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صومالیہ کی پاکستان سے 24 جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کیلئے مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے کہ 2 کھرب 51 ارب روپے کا دفاعی معاہدہ زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم نے 27 ویں ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کیلئے اختیارات مانگ لیے
جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق صومالیہ پاکستان سے جدید لڑاکا طیارے حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ سطح مذاکرات میں تیزی لا رہا ہے اور مجوزہ معاہدے کے تحت 24 تک جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری پر غور جاری ہے، جو 1991 میں ریاستی انہدام کے بعد پہلی مرتبہ ملکی فضائی جنگی صلاحیت کی بحالی کی اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں جرگہ، قبائلی مشران و عمائدین کا فتنہ الخوارج کیخلاف پاک فوج کا ساتھ دینے کا اعلان
مذاکرات کی تفصیلات
صومالی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات بنیادی طور پر جے ایف 17 کے جدید بلاک تھری ورژن پر مرکوز ہیں اور یہ کثیر مرحلہ دفاعی پیکج تقریباً2 کھرب 51 ارب روپے (900 ملین ڈالر) مالیت کا بتایا جاتا ہے۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ سرد جنگ کے بعد موغادیشو کی سب سے بڑی اور اہم دفاعی خریداری ہوگی اور اس سے افریقہ خطے کے سیکیورٹی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی کا اشارہ ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 21 ویں صدی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنا، انسانوں کو اولین ترجیح دینی ہوگی: سربراہ اقوام متحدہ
مکمل دفاعی پیکج
مذاکرات میں جے ایف 17 کے جدید بلاک تھری ورژن کی خریداری کے علاوہ پائلٹ تربیت، ہتھیاروں کے انضمام اور لاجسٹکس پیکج بھی شامل ہیں۔
مالی معاونت کے ممکنہ ذرائع
سعودیہ اور ترکی معاہدے کے ممکنہ مالی معاونین میں شامل ہیں جبکہ پاکستان پہلے میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان کو جے ایف 17 فروخت کر چکا ہے۔ بنگلادیش اور عراق بھی جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔








