پنجاب میں پہلی مرتبہ مفت میت منتقلی سروس کا آغاز
پنجاب میں مفت میت منتقلی سروس کا آغاز
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں پہلی مرتبہ مفت میت منتقلی سروس کا آغاز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائی کورٹ نے جلسوں میں سرکاری ملازمین، وسائل اور مشینری کے سیاسی استعمال کو غیر قانونی قرار دے دیا
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا، سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص لانچ کر دیا، اس لفظ کا کیا مطلب ہے؟
ایمبولینس سروس کی منظوری
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے میت کو ہسپتال سے گھر پہنچانے کیلئے ایمبولینس سروس شروع کرنے کی منظوری دے دی، اجلاس میں پرائیویٹ ایمبولینس سروس کو بھی ریگولائز کرنے پر اتفاق کیا گیا، پرائیویٹ ایمبولینس سروسز کے ریٹ بھی مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی الیکشن، کونسی ریاستیں ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس سے چھینیں؟
سرکاری وہیکل سروس کی منصوبہ بندی
دوران اجلاس بڑے سرکاری ہسپتالوں اور ہر تحصیل میں سرکاری وہیکل سروس شروع کرنے کیلئے پلان طلب کیا گیا ہے۔
پنجاب کی ہر تحصیل میں ہسپتال سے گھر میت لے جانے کیلئے کم ازکم ایک وین میسر ہوگی، مرحوم کے اہل خانہ 1122 پر کال کر کے یا ہسپتال کاؤنٹر سے مفت وین سروس لے سکیں گے۔
سمارٹ مینجمنٹ سسٹم
میت منتقلی سروس کی سمارٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی، میت کو ہسپتال سے دوسرے شہر لے جانے کی سہولت بھی مفت دی جائے گی。








