جیل میں آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا کیسے کرینگے؟ جسٹس عقیل عباسی
سماعت کی تفصیلات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جسٹس عقیل عباسی نے قتل کے مجرم دلاور خان کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیئے ہوئے کہا کہ جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سعودی عرب سے بڑا تیل کا جہاز عمان کی بندرگاہ بھیجنے کی درخواست کر دی
میڈیکل بورڈ کی تشکیل
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں قتل کے مجرم دلاور خان کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، پشاور کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیسہ انعام اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کی جھنگ سے محبت کی کہانی
وکیل کا بیان
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرا موکل قلب کے عارضے میں مبتلا ہے، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی رپورٹ میں ملزم کو آپریشن کی ہدایت کی گئی ہے لیکن جیل میں تو ڈسپرین کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا یوم شہادت حضرت علیؓ پر جلوس و مجالس کی تکمیل تک نگرانی جاری رکھنے کا حکم
عدالتی ریمارکس
جسٹس عقیل عباسی نے اہم ریمارکس دیئے کہ جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے؟
جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ ملزم اس وقت کون سی جیل میں ہے؟ وکیل نے بتایا کہ ملزم مردان جیل میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیزہ شاہ کی مختصر عرصے بعد سوشل میڈیا پر دوبارہ واپسی، ویڈیو وائرل
میڈیکل بورڈ کے معاملات
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیئے کہ مردان میں ہی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیتے ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ مردان میں کارڈیالوجی ہسپتال نہیں، پشاور کارڈیالوجی میں بنا دیا جائے۔
عدالت نے پشاور کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیتے ہوئے 9 مارچ تک میڈیکل بورڈ کی رپورٹ طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی شیخ امتیاز کی رکنیت معطلی کیخلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ
مذید معلومات
واضح رہے کہ 2025 میں مردان میں ایک فرد کے قتل کے الزام میں دو ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا، ملزم دلاور خان کی تشخیص کیلئے ٹرائل کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے درخواست خارج کر دی تھی، ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ میں درخواستیں ڈی ایچ کیو مردان کی رپورٹ پر خارج کی گئی تھیں۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل گراؤنڈ تشکیل دیا گیا تھا، میڈیکل بورڈ نے قرار دیا تھا کہ ملزم کو آپریٹ کی ضرورت نہیں ہے، بعد ازاں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹرز پر مشتمل دوسرا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا منظور کی گئی۔
حیات آباد میڈیکل بورڈ کی رائے
حیات آباد میڈیکل بورڈ نے رائے دی ملزم کو آپریشن کی ضرورت ہے، حیات آباد میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا، مرکزی ٹرائل ابھی ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہے اور کیس میں ایک نامزد ملزم تاحال مفرور ہے۔








