وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے افغانستان میں کی گئی پاکستان کی فضائی کارروائی پر حکومت کا باضابطہ مؤقف سینیٹ میں پیش کردیا
وزارتی بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ افغانستان کو بارہا سرحد پار دراندازی کے ثبوت دیے گئے مگر افغان حکومت نے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا۔ ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی اور توشہ خانہ کیسز: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع
سینیٹ اجلاس
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے افغانستان میں کی گئی پاکستان کی فضائی کارروائی پر حکومت کا باضابطہ موقف پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیراعظم اور انڈونیشیئن وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ
کارروائی کی نوعیت
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہوئی حالیہ کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ تھیں، ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، یہ کارروائی ایک دم سے نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا جنوبی لبنان میں ہوٹل پر حملہ، 3 صحافی شہید
دراندازی کی اطلاعات
پاکستان نے افغانستان کو بار بار سرحد پار دراندازی سے آگاہ کیا۔ افغانستان نے پاکستان سے ان طالبان کو دوسری سرحد پر منتقل کرنے کے لیے 10 ارب روپے مانگے۔ ہمارے وزیر دفاع نے کہا کہ ہم دس ارب روپے دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ضمانت دیں کہ پاکستان میں مداخلت نہیں ہوگی، تاہم انہوں نے ضمانت دینے سے انکار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں کتنے مالیاتی مقدمات زیر التوا ہیں؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں
دہشت گردی کے ثبوت
وفاقی وزیر نے کہا کہ ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں ہوئے حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ، ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے۔ افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشت گردی ہو رہی ہے اس کے بڑے مصدقہ ثبوت ہمارے پاس ہیں، یہ ثبوت افغانستان کے سامنے بھی رکھے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے سپہ سالار کے بارے میں ٹوئٹ پر پارٹی میں شدید تحفظات ہیں، علی امین گنڈا پور پیغام ملنے کے باوجود اڈیالہ جیل کا رخ نہیں کر رہے، سلمان غنی
افغان رجیم کی بے حسی
افغان طالبان حکومت سے متعدد دفعہ درخواست کی گئی کہ افغانستان سے دراندازی روکی جائے مگر افغان حکومت نے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا۔ طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ دہشت گردی صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔
دہشت گردوں کے محفوظ مقامات
پاکستان میں پاک افغان بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آتے ہیں، ان کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں۔ وہاں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں بھی موجود ہیں، جن کی نشاندہی ہم کر چکے ہیں اور افغان حکومت کو آگاہ کر چکے ہیں مگر افغان حکومت نے ان دہشت گردوں کے خلاف کچھ نہیں کیا۔
وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا سینیٹ میں اظہار خیال
پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیاں ہوئی ہیں
افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کے ثبوت طالبان انتظامیہ کے سامنے رکھے تھے
طالبان حکومت کی دہشتگردی کو روکنے میں کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آئی… pic.twitter.com/xYI5Z1OxYx— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) February 23, 2026








