ٹرمپ ایک محدود حملے پر غور کررہے ہیں لیکن اگر ایران جوہری پروگرام سے دستبرداری نہ ہوا تو بڑا حملہ بھی کیا جا سکتا ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ
امریکی صدر کی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیاں
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک محدود ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ اگر ایران جوہری پروگرام سے دستبردار نہ ہوا تو آنے والے مہینوں میں بڑے حملے کا بھی امکان موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے پی ایس سانحہ میں ملوث عناصر انسانیت کے مجرم ہیں: گورنر پنجاب
ٹرمپ کی فوجی آپشنز پر مشاورت
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے ذرائع کی معلومات کے مطابق صدر نے اپنے مشیروں کے ساتھ یہ بات کی ہے کہ اگر سفارتی کوششیں یا ابتدائی محدود امریکی کارروائی ایران کو ان کے مطالبات ماننے پر آمادہ نہیں کر سکیں، تو وہ بعد میں ایک وسیع تر فوجی آپریشن پر غور کریں گے۔ اس کا مقصد ایرانی قیادت کو اقتدار سے ہٹانا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیئن ہاکی چیمپئینز ٹرافی، کھلاڑیوں کو یومیہ الائونس مل گیا
جنیوا میں مذاکرات
اخبار کے مطابق، امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جسے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی آخری کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ عسکری آپشنز کو بھی زیرِ غور رکھتے ہیں۔
محدود حملے کے ممکنہ اہداف
امریکی اخبار کے مطابق، اگرچہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن ٹرمپ کے مشیروں کے مطابق صدر ابتدائی طور پر آئندہ چند دنوں میں ایک محدود حملے کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا مقصد ایرانی قیادت کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کرے۔ زیر غور اہداف میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر، جوہری تنصیبات، اور بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہیں۔








