اہلیت اور قابلیت میں نقص یا دھوکا دہی پر جج منصب پر رہنے کا حقدار نہیں، طارق جہانگیری جج برطرفی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق جہانگیری جج برطرفی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، 116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعظم خان نے تحریر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تیتر، بٹیر اور طوطوں کا غیرقانونی شکار کرنے والے 7 شکاریوں کو ساڑھے 3 لاکھ روپے جرمانہ، 24 ملزمان کا چالان
عدلیہ کی آزادی اور احتساب
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کا مطلب احتساب سے بالاتر اور مقدس ہونا نہیں، اہلیت اور قابلیت میں نقص یا دھوکا دہی پر جج منصب پر رہنے کا حقدار نہیں ہے۔ ایسے شخص کو قانوناً فوری طور پر عہدے سے الگ کیا جانا چاہیے۔ ایسی برطرفی عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے۔ احتساب اداروں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 30 October 1947 کو یونیورسٹی گراﺅنڈ لاہور میں قائداعظمؒ کا فرمان: ’’کشمیر میں دشمن کامیابی حاصل نہیں کرپائے گا، دنیا جانتی ہے ہم سچائی پر ہیں‘‘
انصاف کی رسائی
آزاد، اہل اور قابل اعتماد عدلیہ کے بغیر انصاف تک رسائی کا حق محض سراب ہے۔ عدالتیں ججز کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی اوقات سے کچھ بھی نہ زیادہ رکھنا۔۔۔
عدالتی ڈھانچہ اور عوامی اعتماد
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی منصب کی بنیاد پر پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے، جس سے سائلین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ ججز کی شفاف طریقے سے تقرری بنیادی حق انصاف کے تحفظ کا لازمی جزو ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، جیولرز مارکیٹ میں 20 کلو سونے کے فراڈ کا مرکزی ملزم گرفتار
اہلیت کا تعین
عدلیہ میں آئینی معیارات کے نفاذ سے عدالتیں اپنی آزادی کا تحفظ کرتی ہیں۔ انتظامی منظوری یا بعد کی توثیق بنیادی اہلیت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ تفصیلی فیصلہ کے مطابق، وکیل کا لائسنس بنیادی تعلیم نقص دور نہیں کر سکتا۔ اگر درست اور قانونی ایل ایل بی ڈگری نہ ہو تو تقرری ابتدا سے باطل ہوگی۔
نتیجہ
غلط تقرری کو بعد کی انتظامی کارروائیوں سے درست نہیں کیا جا سکتا۔ عوامی عہدہ صرف قانونی اہلیت رکھنے والا شخص ہی سنبھال سکتا ہے۔ اسی تناظر میں، طارق جہانگیری کی بطور جج تقرری کالعدم قرار دی جاتی ہے۔








