انوکھا احتجاج، چیچہ وطنی میں فقیر نے بھیک نہ ملنے پر 15 پر کال کر دی
انوکھا احتجاج
چیچہ وطنی میں فقیر نے بھیک نہ ملنے پر 15 پر کال کر دی
یہ بھی پڑھیں: خانیوال، کبیر والا میں بھتیجے نے پھوپھی کی جان لے لی
واقعہ کی تفصیلات
چیچہ وطنی (ویب ڈیسک) پاکستان کے شہر چیچہ وطنی کے نیا بازار میں ایک ایسا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا ہے جس نے شہریوں کو حیرت زدہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسکرانے پر بھی مجبور کر دیا۔ عام طور پر بھکاری دکانداروں سے چند روپوں کی امید رکھتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ بالکل الٹ نکلا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی سیریز؛ 17 کھلاڑیوں پر مشتمل آسٹریلوی اسکواڈ لاہور پہنچ گیا
فقیر کا انوکھا مطالبہ
عینی شاہدین کے مطابق، ایک فقیر نے نیا بازار کے ایک معروف دکاندار سے اللہ کے نام پہ مدد کی درخواست کی۔ دکاندار نے روایت کے مطابق اسے 10 روپے دینے کی کوشش کی، مگر فقیر نے وہ رقم لینے سے صاف انکار کر دیا۔ فقیر کا موقف تھا کہ اسے چھوٹی رقم نہیں بلکہ عید کے لیے ایک عدد نیا "سوٹ" چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ باغبانپورہ ٹریفک حادثے کے متاثرین کے گھر پہنچ گئیں
احتجاج کا آغاز
ساہیوال نیوز کے مطابق دکاندار نے جب سوٹ دینے سے معذرت کی تو فقیر نے وہاں سے جانے کے بجائے احتجاج شروع کر دیا۔ معاملہ اس وقت انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال اختیار کر گیا جب فقیر نے اپنی جیب سے موبائل فون نکالا اور فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے پولیس کو موقع پر بلا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سکھر، خانیوال، کوہاٹ، شاہین آباد اور کوٹری میں محکمہ ریلوے نے فیکٹریاں قائم کی ہوئی ہیں، بدقسمتی سے ان میں سے ایک فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گئی۔
پولیس کی آمد
پولیس کی آمد اور فقیر کے اس انوکھے مطالبے نے پورے بازار میں ہلچل مچا دی۔ وہاں موجود لوگ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ اب مانگنے والے بھی اپنے "حق" کے لیے قانونی راستہ اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا "ہم نے زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ کوئی فقیر پیسے لینے سے انکار کر کے پولیس بلا رہا ہو، ایک راہگیر نے کہا کہ "یہ ڈیجیٹل دور کے فقیر ہیں، جو اب 10 روپے پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔"
سوشل میڈیا پر تذکرہ
سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کے چرچے ہو رہے ہیں، جہاں صارفین اسے "جدید دور کا فقیر" قرار دے رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب معاشرے کے ہر طبقے تک ٹیکنالوجی پہنچ چکی ہے، چاہے اس کا استعمال کسی بھی مقصد کے لیے کیا جائے۔








