جائیداد کی ملکیت سے متعلق کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس میں خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ ہونہار سکالرشپ سکیم میں کتنے طلباء نے اپلائی کیا۔۔؟ اہم تفصیلات جاری
تحریری فیصلہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ جب نجی فریقین خود خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل دائر کرنے کے مجاز نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو تیسرے ٹیسٹ میں شکست دے کر ایشز سیریز اپنے نام کر لی
محتسب کی حیثیت
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ محتسب ایک جج کی حیثیت رکھتا ہے، فریق نہیں، اس لیے وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کا دفاع نہیں کر سکتا۔ محتسب ایک نیم عدالتی ادارہ ہے اور وہ کسی فیصلے سے متاثر ہونے والا فریق نہیں بن سکتا، اس کی حیثیت ایک منصف کی ہے جسے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سمندر پار پاکستانیوں کے لیے دروازے ہر وقت کھلے ہیں: بیرسٹر امجد ملک
خیبر پختونخوا حکومت کا موقف
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس جائیداد کی وارث تھی اور نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا، اس لئے اسے اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار، کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے، وزیر توانائی
جائیداد کے اصل دعویدار
عدالت نے واضح کیا کہ اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا قانونی حق متاثر نہیں ہوگا۔
مقدمے کی تفصیلات
یہ مقدمہ شبیر خان اور دیگر نجی فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق تھا، صوبہ خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ 2019 کے تحت کیس کا فیصلہ سنایا تھا، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا.








