اساتذہ کی تکریم
علماء کی وراثت
تحریر: محمد اقبال اعوان
علماء کو انبیاء علیہم السلام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ یہ وراثت مال و دولت کی نہیں بلکہ علم و حکمت کی ہے۔ تقسیم کا عمل ہمیشہ سے فضیلت کا حامل رہا ہے، اور علم کی تقسیم انسانیت کی سب سے بڑی خدمت شمار ہوتی ہے۔ اسلام میں پہلی وحی ہی "اقرأ" یعنی پڑھنے کے حکم سے نازل ہوئی، جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ علم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے حالانکہ حقیقی علم وہی ہے جو انسان کو سیدھے راستے کی رہنمائی فراہم کرے، کیونکہ بھلائی اور برائی دونوں کے دروازے کھلے ہیں۔ اس لیے وہی لوگ سچے معلم اور رہنما کہلانے کے مستحق ہیں جو نفع بخش علم عام کرتے ہیں اور اس پر خود بھی عمل پیرا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ عرب ممالک کے تعاون سے صدام کو ایران کے خلاف صف آرا کیا گیا، روس پر دباؤ ڈالا گیا کہ ایٹمی پلانٹ کا معاہدہ منسوخ کر دے۔
اساتذہ کی اہمیت
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اساتذہ اور علماء کو عظیم بادشاہوں اور حکمرانوں نے ہمیشہ عزت و تکریم سے نوازا۔ یہ احترام ان کے علم، کردار اور رہنمائی کی بدولت تھا۔ انہوں نے نہ صرف علم پھیلایا بلکہ معاشروں کی فکری اور اخلاقی تربیت میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ آج کے جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی اساتذہ کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہاں ان کے لیے مناسب تنخواہیں، مراعات اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ معاشی پریشانیوں سے آزاد ہو کر مضبوط اور باصلاحیت نسلیں تیار کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے پیپرا رولز میں کی جانیوالی ترمیم واپس لینے کا اعلان کردیا
چغہ (گاؤن) کا نفاذ
حال ہی میں پنجاب میں اساتذہ کے لباس میں چغہ (گاؤن) کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بظاہر اساتذہ کے وقار کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اگر اس لباس کو عزت و تکریم کی علامت کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے تو اسے خصوصی تقریبات، سیمینارز اور رسمی مواقع تک محدود رکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ لیکن اگر اسے محکمہ تعلیم کے باقاعدہ یونیفارم کا حصہ بنانا مقصود ہے تو پھر اس پر مکمل نظم و ضبط کے ساتھ عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ تعلیمی انتظامیہ کے تمام افسران کو بھی یکساں لباس پہننا چاہیے تاکہ محکمہ تعلیم میں ہم آہنگی اور ڈسپلن نمایاں ہو جس طرح فوج اور پولیس میں جونیئر سے سینئر تک تمام جوان یونیفارم میں ہوتے ہیں۔ تاہم اساتذہ کی عزت و وقار میں حقیقی اضافہ محض لباس سے نہیں بلکہ ان کی معاشی و سماجی حالت بہتر بنانے سے ہوگا۔ ان کے الاؤنسز میں اضافہ، معیاری طبی سہولیات اور رہائش کی فراہمی ایسے اقدامات ہیں جو ان کے وقار کو عملی طور پر مضبوط کریں گے۔ اساتذہ کی اکثریت کی رائے ہے کہ ڈریس کوڈ اگر سادہ سفید شلوار قمیص اور سیاہ ویسٹ کوٹ تک محدود رکھا جائے تو یہ زیادہ موزوں اور قابلِ قبول ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مالاکنڈ یونیورسٹی میں طالبات کی مبینہ چار ہزار نازیبا ویڈیوز کے معاملے کی تحقیقات مکمل، تہلکہ خیز انکشاف
مشاورت کی اہمیت
یقیناً ہمارے وزراء اور ذمہ دارانِ حکومت نیک نیتی کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں، اور ان کے اقدامات قابلِ احترام ہیں تاہم مشاورت ایک بہترین طرزِ حکمرانی ہے۔ ایسے فیصلے جو وسیع مشاورت سے کیے جائیں، زیادہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اصلاح و بہتری کے اقدامات وہی کامیاب ہوتے ہیں جو سب کے مفاد میں ہوں، آسانی پیدا کریں اور نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: ثانیہ عاشق کا بریل پرنٹنگ پریس لاہور کا دورہ، نابینا طلباء کیلیے معیاری تعلیمی مواد کی فراہمی پر زور
نوٹ
یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
لکھنے کی دعوت
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








