بھارتی شہری نے اہلیہ سربجیت کور کے پاکستان میں نکاح کو چیلنج کر دیا
بھارتی شہری کا نکاح چیلنج
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر میں بھارتی شہری کرنیل سنگھ نے اپنی اہلیہ سربجیت کور کے پاکستان میں نکاح کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے بیٹرز میں وہ جرت ہے، ہم یہ میچ جیت رہے ہیں، باؤلنگ کے بعد عثمان طارق پر امید
درخواست کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق کرنیل سنگھ نے سابق ایم پی اے مہندر پال سنگھ کو نمائندہ مقرر کر کے درخواست دائر کی۔ رجسٹرار آفس نے بھارتی شہری کی درخواست پر اعتراضات عائد کر دیے ہیں۔ رجسٹرار آفس نے کہا کہ اسپشل پاور آف اٹارنی محکمہ خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں ہے، درخواست گزار نے نکاح کینسل کرانے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی میں طوفانی ہواؤں اور بارشوں سے نظام زندگی درہم برہم، درخت اکھڑ گئے
سربجیت کور کا معاملہ
بھارتی شہری نے درخواست میں استدعا کی کہ سربجیت کور 3 نومبر 2025 کو 10 روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئی تھیں۔ ہندو میرج ایکٹ کے تحت مذہب کی تبدیلی سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی، اور سربجیت کور کا نکاح نامے میں خود کو 'طلاق یافتہ' ظاہر کرنا جھوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے افغان طالبان کو دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے میں مدد کی پیشکش کردی
سربجیت کور کی موجودہ صورتحال
یاد رہے کہ سربجیت کور سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور اُن کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی۔ تاہم، وہ واپس انڈیا نہیں گئیں اور اسلام قبول کرنے کے بعد شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی تھی۔ اس کے بعد سے سربجیت کور پاکستان میں ہی قیام پذیر تھیں اور اپنا نام نور فاطمہ رکھ لیا تھا۔
قانونی کارروائی
سربجیت کور کو رواں برس کے آغاز پر ضلع ننکانہ صاحب کے علاقے سے حراست میں لے کر لاہور کے ویمن شیلٹر ہوم بھجوا دیا گیا تھا۔ انہیں واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا ڈی پورٹ کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی تھیں، تاہم آخری لمحات میں انھوں نے انڈیا واپس جانے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی جانب سے حکومت پاکستان کو واپس انڈیا نہ بھیجنے کی درخواست بھی کی گئی، جس پر پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ طلال چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے سربجیت کور کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کیا جا رہا ہے۔








