ای سی سی نے پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس آپریشن روکنے کے لیے ڈاکوؤں نے 7 افراد کو اغوا کرلیا
اجلاس کی تفصیلات
وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اہم معاشی امور پر غور کیا گیا اور متعدد فیصلے کیے گئے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخیرے کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے منظور شدہ ریزرو قیمتوں پر گندم فروخت کرنے کی کوشش کم بولیاں موصول ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے یو اے ای کو 2 ارب ڈالر ادائیگی کا فیصلہ متبادل ذرائع سے بندوبست ہونے کے بعد کیا، حکومتی ذرائع
گندم کی فروخت کی شرائط
موجودہ ذخیرہ اندوزی اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ای سی سی نے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کو فرسٹ اِن، فرسٹ آؤٹ (ایف آئی ایف او) بنیاد پر نئی مقرر کردہ ریزرو قیمتوں پر فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔ مقامی گندم کی فی 40 کلو قیمت 4 ہزار 150 روپے جبکہ درآمدی گندم کی فی 40 کلو قیمت 3 ہزار 800 روپے مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر کو میزبانی کا شوق کسے دیکھ کر ہوا؟
ٹیکنیکل ضمنی گرانٹ کی منظوری
اجلاس میں مزید برآں سابقہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) منصوبوں کے لیے 53 کروڑ 60 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ منظور شدہ رقم متعلقہ قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے منتقل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عید الاضحٰی کے موقع پر لاہور میں صفائی کس طرح کی جا رہی ہے، آپ کس طرح شکایات درج کروا سکتے ہیں؟ تمام تفصیلات جانیے اس ویڈیو میں
پیٹرولیم ڈویژن کی رپورٹ
اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سی اینرجیکو پی کے لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ تصفیہ اور پیٹرولیم لیوی کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق حقائق جاننے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جو ای سی سی کی سابقہ ہدایات کی روشنی میں تیار کی گئی تھی۔ کمیٹی نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اسے مزید جامع پریزنٹیشن کے لیے آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا ہے۔
شرکت کرنے والے وزراء اور حکام
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان (ویڈیو لنک کے ذریعے) سمیت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔








