بلوچستان میں آٹھ لاکھ گندم کی بوریاں خراب ہونے کے انکشاف
خراب گندم کی خبر
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں آٹھ لاکھ گندم کی بوریاں خراب ہونے کے انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی وزیر خوراک نورمحمد دمڑ نے واضح کیا کہ مذکورہ گندم کی خریداری موجودہ حکومت کے دور میں نہیں بلکہ ماضی میں کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے خطرے، سندھ حکومت نے اقدامات شروع کردیے
ماضی کی خریداری اور خراب معیار
انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں کم معیار کی گندم خریدی گئی، جو وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو گئی اور اس کی لو کوالٹی سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فلمی دنیا میں رہتے ہیں، حقیقت کیا ہے پاک آرمی نے بتا دیا: بہروز سبزواری
سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ
سما ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خراب گندم کی فروخت سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ اور ہدایات کی روشنی میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم آئی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ گندم بڑی حد تک خراب ہو چکی ہے اور اس کی کوالٹی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث اسے مزید ذخیرہ کرنا ممکن نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع کرک میں غیرقانونی کان کنی پر 60 روز کیلئے مکمل پابندی، دفعہ 144 نافذ
خراب گندم کی فروخت کا عمل
انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں سی ایم آئی ٹی نے گندم فروخت کرنے کی سفارش کی۔ نور محمد دمڑ نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد محکمہ خوراک نے خراب گندم فروخت کی اور حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’’غضب للحق‘‘: سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں افغان طالبان کی بادانی پوسٹ تباہ کر دی
حکومت کی شفافیت کے اقدامات
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت محکمہ خوراک کے پاس خراب گندم کی کوئی بوریاں موجود نہیں ہیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے اور تمام فیصلے متعلقہ رپورٹس اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیے گئے ہیں۔
بے ضابطگی کے الزامات کی تردید
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ معاملے میں کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی ہے، اور کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔








