بلوچستان میں آٹھ لاکھ گندم کی بوریاں خراب ہونے کے انکشاف
خراب گندم کی خبر
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں آٹھ لاکھ گندم کی بوریاں خراب ہونے کے انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی وزیر خوراک نورمحمد دمڑ نے واضح کیا کہ مذکورہ گندم کی خریداری موجودہ حکومت کے دور میں نہیں بلکہ ماضی میں کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کا آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان
ماضی کی خریداری اور خراب معیار
انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں کم معیار کی گندم خریدی گئی، جو وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو گئی اور اس کی لو کوالٹی سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے جلد ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا
سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ
سما ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خراب گندم کی فروخت سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ اور ہدایات کی روشنی میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم آئی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ گندم بڑی حد تک خراب ہو چکی ہے اور اس کی کوالٹی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث اسے مزید ذخیرہ کرنا ممکن نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
خراب گندم کی فروخت کا عمل
انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں سی ایم آئی ٹی نے گندم فروخت کرنے کی سفارش کی۔ نور محمد دمڑ نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد محکمہ خوراک نے خراب گندم فروخت کی اور حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات ناکام ہوگئے، طالبان حکومت افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے، عطاء تارڑ
حکومت کی شفافیت کے اقدامات
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت محکمہ خوراک کے پاس خراب گندم کی کوئی بوریاں موجود نہیں ہیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے اور تمام فیصلے متعلقہ رپورٹس اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیے گئے ہیں۔
بے ضابطگی کے الزامات کی تردید
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ معاملے میں کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی ہے، اور کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔








