ہم اکثر مزنگ چوک کی ایک دکان سے دودھ پینے پیدل چلے جایا کرتے، راستے میں ظاہر ہے وقت کٹی کیلیے شرارتوں کا یکے بعد دیگرے ظہور پذیر ہونا لازمی تھا۔

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط: 68

ہم دفتر میں ٹینٹس میں رہائش رکھّے ہوئے تھے۔ ایک باورچی جس کا نام ”نذر“ تھا وہ اکثر کھانا پکاتا تھا۔ اُس کی منفرد خوبی یہ تھی کہ وہ پاؤں پر بیٹھے بیٹھے کئی گھنٹے گزار دیتا تھا اور دِقت محسوس نہ کرتا تھا۔ اگر لڑکے اِدھر اُدھر سے کھا پی آئیں تو بس ویسے ہی بیٹھا رہتا اور کبھی یہ شکایت نہ کرتا کہ بھلے مانسو مجھے بھی بھُوک لگی ہے۔

یادگار لمحات

کچھ باتیں اِس زمانے کی ایسی بھی ہیں جو اِس زمانے کا نوجوان ماننے کے لیے تیاّر نہیں ہوسکتا۔ مثلاً یہ کہ دھرم پورہ نہر پر واقع دفتر سے ہم اکثر مزنگ چوک کی ایک دکان سے دُودھ پینے پیدل چلے جایا کرتے تھے اور راستے میں ظاہر ہے وقت کٹی کے لیے شرارتوں کا یکے بعد دیگرے ظہور پذیر ہونا لازمی تھا۔ ایک دفعہ دفتر کے ساتھ واقع ریل کے لوہے کے پل پر بھاگ دوڑ کرتے ہوئے میں ایک جگہ پل میں گر کر پھنس گیا اور خوش قسمتی سے نہر میں نہ گرا۔ چوہدری محمد علی نے مجھے کھینچ کر نکالا۔ لوہے کے پُل سے پسلیوں میں شدید چوٹیں لگیں۔ جو دو تین ہفتوں کے بعد ٹھیک ہوئیں۔

چپڑاسی کی چالاکی

ڈائریکٹر صاحب کا چپڑاسی جس کا اصل نام تو بھُول گیا۔ اُسے دفتر میں لوگ ”بَھونکا“ کہتے تھے۔ کیونکہ وہ ڈائریکٹر کا چپڑاسی ہونے کے ناطے سارا دن گرم سرد الفاظ بھی لوگوں سے کہہ جاتا تھا۔ ایک دن دفتر کی پچھلی طرف "Experimental Plots" میں لگے ہمارے ٹینٹس کی طرف آیا اور بڑے زور دار الفاظ میں کہنے لگا کہ تم نے کس کی اجازت سے یہ ٹینٹس یہاں لگائے ہیں۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ…… اُس کی گھونسوں، لاتوں سے خُوب مرمّت کردی۔ وہ واپس بھا گ گیا۔ اب ہم انتظار کرنے لگے کہ اب پیشی ہوگی تو کیا بنے گا؟ لیکن ایک دن، دو دن، چار دن، کوئی بلاوا نہ آیا…… تو سمجھ میں یہ بات آئی کہ اُس نے دفتر میں ایک چودھراہٹ بنائی ہوئی تھی۔

غلام شبیر بھٹی کی عادتیں

ہمارے ساتھی غلام شبیر بھٹی ٹینٹس میں بھی ہمارے ساتھ رہتے تھے۔ لیکن اکثر اپنے گھر گوجرانوالہ کو بھی چلے جاتے تھے۔ وہ بڑے جی دار نوجوان تھے اور زیادہ ”جی حضوری“ کے قائل نہ تھے۔ اکثر چُھٹی بھی لیا کرتے تھے۔ لیکن آفیسر انچارج سے بات نہ کرتے تھے۔ اُن کا طریقۂ واردات یہ ہوتا تھا کہ درخواست لکھی اور چلتے چلتے وہ درخواست آفیسر انچارج کے میز پر رکھ کر یہ جا وہ جا …… سگریٹ میں بھی پیتا تھا اور وہ بھی ……

امین جان کا گروپ

اسی طرح ایک اور گروپ کی بات ہوجائے جس میں ہمارے دوست ”امین جان“ بھی ہوتے تھے اور وہ مغل پورہ گنج کے رہائشی تھے۔ یہ گروپ اکثر اُدھر سیر سپاٹے کے لیے نکلتا تھا اور ظاہر ہے راستے میں گول گپّے، سموسے، جلیبیاں یا کوئی فروٹ…… کھڑے ہو کر کھا لیتے تھے اور سبھی آہستہ آہستہ جائے وقوع سے تھوڑا کھسک جاتے تھے۔

تاش کی لت

لاہور میں قیام کے دوران میرے سوا سبھی لڑکے "Flash" تاش کی گیم کھیلا کرتے تھے اور ساتھ گپ شپ چلتی رہتی اور وقت اچھا کٹ جاتا۔ لیکن بعد میں لڑکے پھر گیم میں پیسے لگا کر کھیلنے لگ پڑے اور یہ بُری لت جاری و ساری رہی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ماہ ہمارا ساتھی عبد الرشید عرف ”شیدا“ اِس کھیل میں اپنی اُس ماہ کی ملی ساری تنخواہ ہار گیا۔ اب آخری بات جو میں سنانے جا رہا ہوں وہ شاید آپ ماننے کے لیے بالکل تیّار نہ ہوں۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...