علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپس لیے جانے کی تصدیق اور پارٹی کی حکومت پر برہمی کا اظہار، خیبرپختونخوا حکومت نے تردید کردی
پشاور میں سیکیورٹی واپس لینے کا معاملہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور نے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی واپس لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا، جبکہ صوبائی حکومت نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اندرون لاہور میں بسنت کیسے منائی گئی، نوجوان کا اینکر کے ساتھ بھی شغل
سیکیورٹی کی واپسی کی تصدیق
ایکسپریس نیوز کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی گزشتہ روز چیف سیکیورٹی افسر کے حکم سے واپس لی گئی ہے۔ میرے پاس ایک جیمر، دو ڈبل کیبن اور ڈرائیور سمیت 14 افراد کا اسٹاف تھا۔ ڈی آئی خان ایک حساس علاقہ ہے اور مجھے پہلے سے تھریٹ الرٹس ہیں، یہ تھریٹ الرٹس بحیثیت سابق وزیراعلیٰ اور حکومت میں دہشت گردی کے حوالے سے مؤثر پالیسی کے باعث ملی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی نظام میں آرمی چیف جیسا لیڈر ہونا چاہیے ،دوہفتوں میں ایسی خبرآئے گی جو کسی نے چالیس،پینتالیس برسوں میں نہیں سنی ہوگی: فیصل واوڈا
سیکیورٹی واپس لینے کی وجوہات
ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان خیبرپختونخوا کا دہشت گردی سے متاثرہ علاقہ ہے، پھر بھی میری سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سے وجوہات جاننے پر معلوم ہوا کہ آرڈر اوپر سے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکمران ناکامیوں کو تسلیم کریں، نظام میں بہتری لائیں، حافظ نعیم الرحمان کا کوئٹہ کی مقامی یونیورسٹی میں خطاب
مما نے اپنی گاڑیاں پیش کرنے کی پیشکش
علی امین گنڈاپور نے سی ایس او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں اگر گاڑیاں کم ہیں تو میں اپنی گاڑیاں بھیج دوں گا۔ مجھے اگر دوبارہ گاڑی یا سیکیورٹی دی گئی تو میں پھر نہیں لوں گا۔ صوبے میں ہماری حکومت ہے، لیکن پھر بھی یہ بلاجواز اقدام کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کا ردعمل
قبل ازیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پریس سیکریٹری نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق زیر گردش دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس حوالے سے نہ کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی متعلقہ حکام کو ایسی کوئی ہدایت جاری کی گئی ہے، اس حوالے سے زیر گردش خبریں درست نہیں۔








